Kabhi kabhi mai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Sachay Bhai
کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں
یہ سوچتا ہوں کبھی کبھی میں
آدم کو جس نے وجود بخشا
وجود کو پھر نمود بخشا
نمود کو تازگی عطا کی
عطا کی حد حشر سے ملا دی
ہر ایک ذرے کو زندگی دی
شعور کو جس نے آگہی دی
ہے جس کا ہر شے پہ نام ہے کندہ
وہ کون ہے جس کا میں ہوں بندہ
کبھی کبھی میں۔۔۔
یہ آسماں پہ برستا ساون
یہ لہلہاتا مہکتا گُلشن
یہ سبزا و گُل کا نرم بستر
یہ کہکشاں کی حسین چادر
یہ چاند سورج چمکتے تارے
حسین قدرت کے یہ نظارے
دمکتے ہیں کس کی چاہ میں یہ
مہکتے ہیں کس کی راہ میں یہ
کبھی کبھی میں۔۔۔
وہ نُور جس میں ہے نُور اُس کا
وہ فہم جس میں شعور اُس کا
وہ آنکھ جس سے وہ دیکھتا ہے
زبان جس سے وہ بولتا ہے
جو جلوہ ے نور ے کبریا ہے
تمام عالم کا آسرا ہے
زمیں پہ رحمت کا آسماں ہے
فلک پہ کس کا وہ مہماں ہے
کبھی کبھی میں۔۔۔
زمیں ہے نہ یہ آسماں ہے
عجیب عالم عجب سماں ہے
نیہاں نہیں ہے نہ وہ عیاں ہے
ہے کوئی موجود پر کہاں ہے
اُدھر یقیں ہے اِدھر گُماں ہے
بس ایک پردہ سا درمیاں ہے
نکل رہے ہیں یہ کس کے بازو
سمٹ رہی ہے حد من و تُو
کبھی کبھی میں۔۔۔
محمدِ مُصطفٰی سے پہلے
قدم کسی کے یہاں نہ پُہنچے
یہاں سے بھی کُچھ ذرا سا آگے
جہاں پہ جلوے ہیں لامکاں کے
جو نُود کو ساز دے رہا ہے
نبی کو آواز دے رہا ہے
یہ کون ہے کیا ہے نام اس کا
یہاں بھلا کیا ہے کام اسکا
کبھی کبھی میں۔۔۔
یہاں میانِ خُدا و بندہ
وجود ممکن نہیں کسی کا
جہاں کے مہماں کا ساتھ دینے
نبی کے ہاتھوں میں ہاتھ دینے
جو نُور پیکر میں ڈھل رہا ہے
یہ ہاتھ جس کا نکل رہا ہے
خُدا نُما ہے کہ یہ خُدا ہے
خُدا نہیں ہے تو اور کیا ہے
کبھی کبھی میں۔۔۔
خُدایا مُجھ کو معاف کر دے
نِگاہ میں حق کا نُور بھر دے
یہ پردہِ درمیاں اُٹھا دے
حقیقتِ مُرتضٰی دکھا دے
حبیب کا واسطہ ہے تُجھ کو
الٰہی اتنا بتا دے مُجھ کو
جو تُجھ سے منسوب تیرا در ہے
تیرا ہی ہے یا علی کا گھر ہے
کبھی کبھی میں۔۔۔
مکان ہے یہ تُوں لا مکاں ہے
کسے پتہ تیری حد کیا ہے
کوئی نہیں اور جس سے پوچھوں
نہ تُجھ سے پوچھوں تو کس سے پوچھوں
گھٹا کی صورت میں لوگ گِھر کہ
یہ دارِ کعبہ کے گِرد پھر کہ
یہ کس کو سجدہ گُزارتے ہیں
یہ کس کو آخر پُکارتے ہیں
کبھی کبھی میں۔۔۔
عجب ہے بندہ خُدا نُما سا
خُدا نہیں ہے خُدا ہے لگتا
ہے ملتا جُلتا کلام اس کا
خُدا ہی جیسا ہے نام اس کا
ہر اک جا اس کا نُور بھی ہے
جلا چُکا کوہِ طور بھی ہے
ہوا جو کعبے سے آ رہی ہے
علی علی گُنگُنا رہی ہے
کبھی کبھی میں۔۔۔
<
شرف یہ جو بھی مجھے ملا ہے
یہ اسکی قدمت کا ہی صلہ ہے
جبین محبوب کا ستارہ
خدا نے گھر میں میرے اتارا
صداقتوں کا اصول بن کر
وہ آی گھر میں بتول بن کر
جو پارہء قلب مصطفیٰ ہے
جو مرکز نور انما ہے
کبھی کبھی میں۔۔۔
جو دین حق پر نکھار ہے یہ
اسی کے دم کی بہار ہے یہ
یہ دوجہاں جس کے واسطے ہیں
وہ گل اسی شاخ پر کھلے ہیں
حسن سے سر سبز دو جہاں ہے
حسین سرخیء گلستاں ہے
انہیں سے ہے حق کی راہ روشن
ہے کلمۂ لاالہ روشن
کبھی کبھی میں۔۔۔
علی کا چہرہ علی کے بازو
علی کی آنکھیں علی کے گیسُو
علی کاجسم اور علی کی خوشبو
علی کی رگ رگ میں ہے رواں تُو
ہر ایک کروٹ ہر ایک پہلو
نہیں کوئی فرق ہے سرِ مُو
ہر ایک ادا میں تیری ہی خُو بُو
ہے تُو علی یا علی میں ہے تُو
کبھی کبھی میں۔۔۔
وجود میں جب وہ ڈھل رہا تھا
میں ساتھ کڑوٹ بدل رہا تھا
فلک سے جب وہ زمیں پہ آیا
میں آیا ساتھ اُس کے بن کہ سایا
وہ عرش پہ جب کہ مہماں تھا
وہاں پہ میں شکلِ میزباں تھا
کہیں پہ چھوڑا نہ ساتھ اُس کا
ہے کب سے ہاتھوں میں ہاتھ اُس کا
کبھی کبھی میں ۔۔۔
نِدا یہ آئی نہ بہکو اتنا
زبان کھولو ہے علم جتنا
وہ بسترِ نُور جس پہ سو کر
وہ ہاتھ جس پہ بلند ہو کر
زمیں سے میں آسماں ہوا ہوں
ورائے وہم و گُماں ہوا ہوں
وہ اصل ہے اور اصول ہوں میں
شریکِ نُورِ رسول ہوں میں
کبھی کبھی میں ۔۔۔
خُدا کے مُنکر حُبل کے بندے
کدورتیں دل میں ذہن گندے
مُنافقت کی نِقاب ڈالے
حسد کے تن پہ سجائے بھالے
صفوں میں اسلام کی سما کر
وجود سے زیادہ قد بڑھا کر
جو کلمہِ حق مٹانے نکلے
حُسین سر کو کٹانے نکلے
کبھی کبھی میں۔۔۔
حُسین جو اپنا سر نہ دیتے
راہِ خُدا میں جو گھر نہ دیتے
سُلگتے صحرا میں گر لبِ جُو
نہ دیتے عباس اپنا بازو
جو سر سے زینب ردا نہ دیتی
جو نقشِ باطل مٹا نہ دیتے
تو جانتا کون دین کیا ہے
درس فتح مُبین کیا ہے
کبھی کبھی میں۔۔۔
وہ فاطمہ کے جگر کا پارا
وہ خون میں اپنے ڈوبا تارا
وہ بھوکا پیاسا نڈھال تنہا
بشاریت کا کمال تنہا
لُٹا کے راہِ وفا میں گھر کو
کٹا کے راہِ خُدا میں سر کو
بقا کے دوشے گرا کے اُٹھا
اُٹھا تو نوکِ سِناں پہ اُٹھا
کبھی کبھی میں۔۔۔
اُصولِ دیں کا کمال بن کر
یزیدیت کا زوال بن کر
مدینے سے آ کے کربلا میں
اُتر کے صحرائے نینوا میں
جو دینِ حق کی بقا کی خاطر
راہِ خُدا میں خُدا کی خاطر
حُسین نے کُل کمائی دے دی
خُدا نے ساری خُدائی دے دی
کبھی کبھی میں۔۔۔
وہ مادن نور کا ستارہ
وہ حق کی جانب کھلا اشارہ
پکارتا ہے جسے تڑپ کر
ہے نام جس کا یہ اسکے لب پر
وہی ہے منزل حلویت کی
وہی تو حد ہے قبولیت کی
وہی ہے سجدہ گاہے دو عالم
حسین کا سر جہاں پہ ہے خم
کبھی کبھی میں۔۔۔
بشر کا سر فخر سے اٹھا ہے
تمام عالم کا سر جھکا ہے
بس ایک آواز آ رہی ہے
تمام عالم پہ چھا رہی ہے
قبول تیری ہر ایک دعالے
حسین سجدے سے سر اٹھا لے
لے امت مصطفیٰ کو بخشا
تمام أہل ولا کو بخشا
کبھی کبھی میں۔۔۔
اے محرمِ راضِ کُن فکا آ
اے بزمِ وحدت کے راز داں آ
زمیں پر حق کے آسماں آ
اے مُطمئن نفسِ دو جہاں آ
تمام راہیں سجی ہوئی ہیں
فلک کی بانہیں کُھلی ہوئی ہیں
اے مرسدِ دو جہاں پہ چھا جا
توں نُور ہے نُور میں سما جا
کبھی کبھی میں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.