Jinki raahon se
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Sachay Bhai
جن کی راہوں سے پیعمبر نے ہٹائے کانٹے
ہر قدم پر اُنہی لوگوں نے بچھائے کانٹے
جن کی راہوں سے۔۔۔
زندگی میں جو ستم ڈھاے وہی کیا کم تھے
بعد مرنے کے جو پہلو میں رکھاے کانٹے
جن کی راہوں سے۔۔۔
خار پھر خار ہے فطرت ہے اذیت دینا
پہلوئے گُل سے کوئی کاش ہٹائے کانٹے
جن کی راہوں سے۔۔۔
اہلِ گُلشن کی نگاہوں میں صدا کھٹکیں گے
لاکھ پھولوں میں رہے ہیں تو پرائے کانٹے
جن کی راہوں سے۔۔۔
وائے ہو اُمتِ مرحومہ تیری قسمت پر
گُل کے ہوتے ہوئے دامن میں سجائے کانٹے
جن کی راہوں سے۔۔۔
گھر جلانے کو چلے آئے نبی زادی کا
بن گئے بعدِ نبی راہ کے ساے کانٹے
جن کی راہوں سے۔۔۔
دیکھ کر دشتِ مُصیبت میں گُلِ زہرا کو
نیزہ تانے ہوئے ہر سُو نِکل آئے کانٹے
جن کی راہوں سے۔۔۔
رو دیئے اہلِ ستم سوکھے ہوئے ہونٹوں پر
جب زبان پھیر کے اصغر نے دِکھائے کانٹے
جن کی راہوں سے۔۔۔
تنِ شبیر ہے یوں تیروں کے گہوارے پر
میتِ گُل کو ہو جس طرح اُٹھائے کانٹے
جن کی راہوں سے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.