Jawab kya denge
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Shadman Raza
عمل سے ہاتھ ہے خالی حساب کیا دینگے
امامِ عصر کو آخر جواب کیا دینگے
یہ ہے غلام زمانہ وہ ناصران وفا
یہاں پہ خواہش دنیا وہاں ہے علم و عطا
یہاں پہ رقس و گنہای وہاں پہ اشک عزا
یہ بے حیای کی دلدل وہ نصرتوں کی فضا
ہم اپنی نسل کو آخر نساب کیا دینگے
امامِ عصر کو آخر۔۔۔
نہ جانے کب سے ہے مصروف غیبتوں میں لب
نماز و روز و حج سے نہیں کوئی مطلب
زکوٰۃ و خمس کے ہم ہو گیء رہے ہے مجرم سب
بلا رہے ہیں امام زمن کو ہم یا رب
عمل کی روح سے خالی حباب کیا دینگے
امامِ عصر کو آخر۔۔۔
غضب خدا وہ کیسی خوشی کی محفل تھی
کہ ماؤں بہنوں کی بے پردگی وہاں دیکھی
ابھی حدیث کساء تھی وہاں کسی نے پڑی
پھر اسکے بعد وہی پر ہے رقس و موسیقی
گھنا کی لہہ پہ یہ چانگ و رباب کیا دینگے
امامِ عصر کو آخر۔۔۔
بہت بڑا ہے یہ کرب امام عرش وقار
علی کی بیٹیاں بلوے میں عطرت اطہار
نظر سے جاتا نہیں ان کے شام کا بازار
وہ ہے ظہور کو تیار ہم نہیں تیار
شہادتوں کے بنا انقلاب کیا دینگے
امامِ عصر کو آخر۔۔۔
گھروں میں ہونگے جو ابلسییت کے رنگ و نشاں
نہ پیدا ہونگے وہاں ناصران شاہ زمن
کریں گے مجلسیں بے پردگی بھی ہو گی یہاں
عزا کے فرش پہ آے گی جب حسین کی ماں
ثبوت عشق رسالت ماب کیا دینگے
امامِ عصر کو آخر۔۔۔
اب اور کتنی جہالت کی پیروی ہو گی
چمک نگاہ میں اور دل میں تیرگی ہو گی
اضا فقول میں کردار میں کمی ہوگی
وہ جن کی فکر میں دیمک لگی ہوی ہوگی
ہم ان کے ہاتھ میں دیں کی کتاب کیا دینگے
امامِ عصر کو آخر۔۔۔
اگر کہیں گے وہ شمعِ وفا جلانی ہے
جو زندگی کی کمائی ہے وہ لٹانی ہے
اگر کہیں گے وہ کہ اکبر کی جاں بچانی ہے
جوان بیٹے کی میت ہمیں اٹھانی ہے
جواں پسر کا قمر ہم شباب کیا دیں گے
امامِ عصر کو آخر۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.