Jaisa apna hai nabi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Faazil Lakhnavi
جیسا اپنا ہے نبی کوئی پیمبر نہ ملا
صف شکن دیکھ لیے ایک بھی حیدر نہ ملا
فاطمہ ایسا کوئی نور کا محور نہ ملا
آج تک شبر و شبیر کا ہمسر نہ ملا
پنجتن پاک سے کونین میں بہتر نہ ملا
جیسا اپنا ہے نبی۔۔۔
رات بھر تڑپا کیا پیاس کے مارے کی طرح
خاموشی لب پہ تھی دریا کے کنارے کی طرح
یاد شہ دل میں تھی بہتے ہوے دھارے کی طرح
در شبیر پہ پہنچا ہے ستارے کی طرح
حر کے مانند نصیبے کا سکندر نہ ملا
جیسا اپنا ہے نبی۔۔۔
آم لوگوں میں کہاں نفس پیمبر کا جواب
خاک کے پتلے نہیں نور کے پیکر کا جواب
ہر سپاہی کہاں بن جاتا ہے لشکر کا جواب
کیسے مل جاے گا اصحاب میں حیدر کا جواب
بزم اصحاب میں جب دوسرا بوزر نہ ملا
جیسا اپنا ہے نبی۔۔۔
باغ فردوس ارم چاہیے کوثر کے لئے
نور ہی زیب ہے کچھ نور کا پیکر کے لئے
اک سمندر کی ضرورت ہے سمندر کے لئے
رب نے حیدر کو چنا بنت پیمبر کے لئے
چشمِ قدرت کو بھی اس گھر کے سوا گھر نہ ملا
جیسا اپنا ہے نبی۔۔۔
شب کے تابندہ ستاروں سے انہیں کچھ نہ ملا
دل کے رنگین نظاروں سے انہیں کچھ نہ ملا
اس زمانے کی بہاروں سے انہیں کچھ نہ ملا
بہتے دریا کے کناروں سے انہیں کچھ نہ ملا
زندگی میں جنہیں ماہر غم سرور نہ ملا
جیسا اپنا ہے نبی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.