Hussain kal bhi tha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Shahid Baltistani
حسین کل بھی تھا مظلوم اور آج بھی ہے
ستم کی زد پہ ہمارا امام آج بھی ہے
اعزا کے فرش کا ھل مِن پیام آج بھی ہے
حسین کل بھی تھا۔۔۔
نظر میں پھرتے ہیں کرب و بلا کے سب منظر
زمیں پہ بکھرا ہواتھا حسین کا لشکر
کہیں کٹے ہوئے بازو کہیںکٹے ہوئے سر
گلی گلی میںوہی قتلِ عام آج بھی ہے
حسین کل بھی تھا۔۔۔
جلوسِ گِریہ و ماتم پہ ظلم اتنے ہوئے
ستم کے مارے ہوئے اب خوں میں ڈوبے ہوئے
برستی دھوپ میں مائوں سے بچے لپٹے ہوئے
سوال کرتے ہیں کیا فوجِ شام آج بھی ہے
حسین کل بھی تھا۔۔۔
ہوئے تھے جس طرح قاسم کی لاش کے ٹکرے
شہید ہوتے ہیں یونہی غلام قاسم کے
جنازے اُن کے بھی کندھوں پہ اُٹھ نہیں سکتے
یہ گٹھڑیوں کے کفن کا نظام آج بھی ہے
حسین کل بھی تھا۔۔۔
حسین کہنے پے زینب کو تعزیانہ لگا
پھر اُس کے بعد اذیت کا سلسلہ نہ رُکا
اُسی کو مار دیا جس نے یا حسین کہا
یزید زادوں کا جاری وہ کام آج بھی ہے
حسین کل بھی تھا۔۔۔
امامِ عصر کی فریاد اب بھی ہے اکبر
زمانہ ہو گیا ویران فاطمہ کا ہے گھر
لہو کے اشک بہاتا ہے عابدِ مضطر
میرے گھرانے پہ غربت کی شام آج بھی ہے
حسین کل بھی تھا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.