Hum musafir hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Mesum Abbas
ہم مسافر ہیں مجبور ہیں
ظلم ڈھاؤ نہ اے ظالموں ہم
مسافر ہیں مجبور ہیں
دل جلاؤ نہ اے ظالموں ہم
مسافر ہیں مجبور ہیں
میرا نانا رسولِ خدا
میرا بابا علی مرتضیٰ
کلمہ گو ہو تو سن لو زرا
چھوڑ دو تم میرا راستہ
یوں ستاؤ نہ اے ظالموں
ہم مسافر ہیں مجبور ہیں
ظلم ڈھاؤ نہ۔۔۔
ہے چلا گھر سے ابنِ علی
کر کے نانا سے وعدہ یہی
چاہے قیمت ہو کتنی بڑی
میں بچاؤں گا دین نبی
یہ بھلاؤ نہ اے ظالموں
ہم مسافر ہیں مجبور ہیں
ظلم ڈھاؤ نہ۔۔۔
لب پہ تسبیح ہے شکر خدا
زیر خنجر سر کربلا
ایسا سجدہ کروں گا ادا
ناز جس پر کرے انبیاء
آزماؤ نہ اے ظالموں
ہم مسافر ہیں مجبور ہیں
ظلم ڈھاؤ نہ۔۔۔
اپنے ہاتھوں پہ اصغر لیےء
شاہ مظلوم تھے کہہ رہے
قتل کرنا ہے کر دو مجھے
گھونٹ پانی پلا دو اسے
یوں رلاؤ نہ اے ظالموں
ہم مسافر ہیں مجبور ہیں
ظلم ڈھاؤ نہ۔۔۔
ہم ہی ہیں حجت کبریا
ہم ہی ہیں وارث انبیاء
گھیر کر یوں سر کربلا
آل احمد کو یوں بے خطا
خوں بہاؤ نہ ظالموں
ہم مسافر ہیں مجبور ہیں
ظلم ڈھاؤ نہ۔۔۔
تھا یہی نوحہ اک شام غم
کلمہ گو یوں نہ ڈھاؤ ستم
کر کے سر وارثوں کے قلم
باندھ کر رسیوں میں حرم
مسکراؤ نہ اے ظالموں
ہم مسافر ہیں مجبور ہیں
ظلم ڈھاؤ نہ۔۔۔
سچ ہے جواد و میثم یہی
دیں کے محسن ہے آل نبی
سر حسینی ردا زینبی
دے رہے ہیں صدا آج بھی
دل دکھاؤ نہ اے ظالموں
ہم مسافر ہیں مجبور ہیں
ظلم ڈھاؤ نہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.