Hogaye baazu qalam
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Sajid Jafri
ہو گئے بازو قلم مشک بچائی نہ گئی
پیاس سقہ سے سکینہ کی بجھائی نہ گئی
جانے کیا کہہ گیا بھائی سے علمدارِ جری
لاش عباس کی سرور سے اُٹھائی نہ گئی
ہو گئے بازو قلم۔۔۔
لاش اندھیرے میں سکینہ کی تھی محتاجِ کفن
شمع تک شام کے زنداں میں جلائی نہ گئی
ہو گئے بازو قلم۔۔۔
کربلا سے ہے بہت دور سکینہ کا مزار
آج تک باپ سے بیٹی کی جدائی نہ گئی
ہو گئے بازو قلم۔۔۔
لاشِ اکبر پہ یہ کہا لیلیٰ نے رو رو کر
ہائے قسمت تیری شادی بھی رچائی نہ گئی
ہو گئے بازو قلم۔۔۔
ختم ہے سیدِ سجاد پہ یہ طرزِ جفا
پھر امامت کبھی کانٹوں پہ چلائی نہ گئی
ہو گئے بازو قلم۔۔۔
بازوئے شاہ میں اک تیر تھاہاتھ اُٹھ نہ سکے
لاش اصغر کی کلیجے سے لگائی نہ گئی
ہو گئے بازو قلم۔۔۔
رُک گیا تیرا قلم ہاتھوں تک آتے ہی وقار
مجھ سے عباس کی تصویر بنائی نہ گئی
ہو گئے بازو قلم۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.