Naize par
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Shahid Baltistani
یا حسین مولا حسین
کس طرح ٹہرے سر شاہ وفا نیزے پر
شام تک جاے گی زینب کی ردا نیزے پر
راہ میں پوچھا سکینہ نے جو بابا ہے کہاں
خون روتے ہوے عابد نے کہا نیزے پر
کس طرح ٹہرے۔۔۔
قبر جس چاند کی چھپ چھپ کے بناتے تھے حسین
رات ہوتے ہی وہی چاند چڑھا نیزے پر
کس طرح ٹہرے۔۔۔
شدت پیاس ہے تنہا ہے غریب زہرا
آگ اگلتا ہوا سورج ہے سوا نیزے پر
کس طرح ٹہرے۔۔۔
خون عابد کی طرح روتے تھے مظلوم حسین
چھو کے چادر کو جو آتی ہے ہوا نیزے پر
کس طرح ٹہرے۔۔۔
میں نے پردے میں اسے پالا ہے بولی زینب
سر مجھے شمر نہ اکبر کا دکھا نیزے پر
کس طرح ٹہرے۔۔۔
شام تک بالی سکینہ نے طمانچے کھاے
شام تک روتے رہے شاہ ہدا نیزے پر
کس طرح ٹہرے۔۔۔
بعد میرے مجلس شبیر ہوی زنداں میں
پہلے مجلس ہوی چادر کی بپا نیزے پر
کس طرح ٹہرے۔۔۔
صرف اور صرف حسین ابنِ علی جانتے ہیں
کیسے ہوتی ہے اسد حمد خدا نیزے پر
کس طرح ٹہرے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.