Fikre iqbal
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Shahid Baltistani
بیاں سرِ شہادت کی اگر تفسیر ہو جاے
مسلمانوں کو قبلہ روضہء شبیر ہو جاے
غم شبیر کوچشمِ محمد سے اگر دیکھے
کبھی بھی مجلس و ماتم کو تو بدعت نہیں سمجھے
تیرے مسلک میں جایز ماتم شبیر ہو جاے
بیاں سرِ شہادت کی۔۔۔
سر مجلس شعور آ جاے گا آنسوں بہانے کا
تمہارا دل بھی چاہے گا عزاخانے میں جانے کا
تمہارے نام بھی فردوس کی جاگیر ہو جاے
بیاں سرِ شہادت کی۔۔۔
تجھے قرآن میں تطہیر کی آیت نہیں ملتی
سبب یہ ہے کہ ماتم دار سے فطرت نہیں ملتی
نشاں ماتم کا سینے پر ابھی تحریر ہو جاے
بیاں سرِ شہادت کی۔۔۔
جنابِ حضرتِ شبیر کی جو ماں ہے اے لوگوں
محمد نے اسے خود ماں کہا اتنا اگر سوچو
تو روضہ فاطمہ زہرا ابھی تعمیر ہو جاے
بیاں سرِ شہادت کی۔۔۔
نشان ماتم شبیر ہے صدیوں کے سینے پر
بتایا حضرتِ اقبال اور ریحان نے مل کر
ہو اب خاموش ہر تحریر ہر تقریر ہو جاے
بیاں سرِ شہادت کی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.