Faryad hai baba
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Mukhtar Hussain Fatehpuri
زینب یہ بکا آج بھی کرتی ہے کھلے سر
فریاد ہے بابا
بے پردہ پھرای گیء اولاد پیمبر
فریاد ہے بابا
بابا مجھے اب کوئی نہ پہچان سکے گا
یہ حال ہے میرا
کچھ اتنے ستم ڈھاے ہیں تقدیر نے مجھ پر
فریاد ہے بابا
زینب یہ بکا آج بھی۔۔۔
پامال ہوا قاسم نوشاہ کا لاشہ
بیوہ ہوی کبرا
مہندی بھرے ہاتھوں کو دولہن رہ گیء مل کر
فریاد ہے بابا
زینب یہ بکا آج بھی۔۔۔
اس غم سے پھٹا جاتا ہے سینے میں کلیجہ
میں رہ گیء تنہا
شبیر سا لاؤں گی کہاں سے میں برادر
فریاد ہے بابا
زینب یہ بکا آج بھی۔۔۔
پیوست ہوا سینے میں اس طرح سے نیزہ
کھنچ آیا کلیجہ
اور خوں میں تڑپتا رہا ہمشکل پیمبر
فریاد ہے بابا
زینب یہ بکا آج بھی۔۔۔
لے کر میں علمدار کے دو دست بریدہ
اور خوں بھرا کرتہ
آؤں گی یہ کہتی ہوی بابا سر محشر
فریاد ہے بابا
زینب یہ بکا آج بھی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.