Ek shehensah ki
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Safdar Abbas
بچپن میں بزرگوں نے بتای تھی کربلا
ایک صاحبِ عالم نے بسای تھی کربلا
ماں نے مجھے لوری میں سنای تھی کربلا
اس دن سے میرے دل میں سمای تھی کربلا
ماں نے سنای تھی سنو میری زبانی
مظلوم شہنشاہ کی مظلوم کہانی
تم بھی کہو میں بھی کہوں
گونج اٹھے سارے زمانے میں یہی شور و شین
حسین حسین امام حسین
حسین حسین۔۔۔
وہ شہنشاہ مدینے میں رہا کرتا تھا
جس کی ماں فاطمہ زہرا تھی علی تھا بابا
جس کا بھائی تھا حسن اور نبی تھا نانا
سب سے افضل تھا زمانے میں اسی کا کنبہ
تم بھی کہو میں بھی کہوں
گونج اٹھے سارے زمانے میں یہی شور و شین
حسین حسین امام حسین
حسین حسین۔۔۔
اس شہنشاہ کا ایک بھائی تھا عباس جری
ایک بیٹا علی اکبر بھی تھا ہمشکل نبی
ایک فرزند تھا شہزادہ علی اصغر بھی
ایک بیٹی تھی سکینہ جو سکون دل تھی
تم بھی کہو میں بھی کہوں
گونج اٹھے سارے زمانے میں یہی شور و شین
حسین حسین امام حسین
حسین حسین۔۔۔
ایک پسر ایسا شہنشاہ کو خالق نے دیا
نام سجاد لقب زین العبا تھا جس کا
ایک بہن زینب کبرا تھی حیا کی ملکہ
بھای کے ساتھ جو ساے کی طرح تھی واللہ
تم بھی کہو میں بھی کہوں
گونج اٹھے سارے زمانے میں یہی شور و شین
حسین حسین امام حسین
حسین حسین۔۔۔
دین معبود پہ جب وقتِ مصیبت آیا
اس شہنشاہ نے ایک قافلہ تیار کیا
بیٹیوں بہنوں کو بیٹوں کو بھی ہمراہ لیا
ایک عجب شان سے نکلا تھا سوے کربوبلا
تم بھی کہو میں بھی کہوں
گونج اٹھے سارے زمانے میں یہی شور و شین
حسین حسین امام حسین
حسین حسین۔۔۔
دو محرم کو سر کربوبلا جب پہنچا
چار جانب سے لعینوں نے اسے گھیر لیا
شام کی فوجوں نے دریا پہ لگایا پہرہ
بس یہی سے ہوا آغاز ستم واویلا
تم بھی کہو میں بھی کہوں
گونج اٹھے سارے زمانے میں یہی شور و شین
حسین حسین امام حسین
حسین حسین۔۔۔
اس شہنشاہ کے کنبے پہ بڑھے رنج و الم
بند ہفتم سے ہوے آب و غذا ہاے ستم
تشنہ لب پیر و جواں نوحہ کناں اہل حرم
اس شہنشاہ کے خیموں میں بپا تھا ماتم
تم بھی کہو میں بھی کہوں
گونج اٹھے سارے زمانے میں یہی شور و شین
حسین حسین امام حسین
حسین حسین۔۔۔
بیکسی چاروں طرف خیموں پہ معمور ہوی
درد کے چھاے اندھیرے شب عاشور ہوی
چھا گئی تشنہ لبی موج رواں دور ہوی
آ گیء صبحِ دہم زندگی بے نور ہوی
تم بھی کہو میں بھی کہوں
گونج اٹھے سارے زمانے میں یہی شور و شین
حسین حسین امام حسین
حسین حسین۔۔۔
وہ شہنشاہ نے پھر وعدے نبھائے سارے
اپنے آنگن کے دیےء بن میں بجھاے سارے
ایک ایک کر کے جنازے بھی اٹھاے سارے
درد اور زخم کلیجے سے لگاے سارے
تم بھی کہو میں بھی کہوں
گونج اٹھے سارے زمانے میں یہی شور و شین
حسین حسین امام حسین
حسین حسین۔۔۔
وہ شہنشاہ تھا مقتل میں اکیلا لوگوں
ایک مسافر کو ستمگاروں نے گھیرا لوگوں
کند خنجر سے گلا پیاسے کا کاٹا لوگوں
ہو گیا قتل محمد کا نواسہ لوگوں
تم بھی کہو میں بھی کہوں
گونج اٹھے سارے زمانے میں یہی شور و شین
حسین حسین امام حسین
حسین حسین۔۔۔
بر سرِ فرش عزا اشک فشانی صفدر
خوب کی لفظوں نے بھی مرثیہ خوانی صفدر
سن چکے اہلِ عزا میری زبانی صفدر
ایک شہنشاہ کی پر درد کہانی صفدر
تم بھی کہو میں بھی کہوں
گونج اٹھے سارے زمانے میں یہی شور و شین
حسین حسین امام حسین
حسین حسین۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.