Ek sar kya tha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Tableegh e Imamia
اک سر کیا تھا شہیدِ کربلا کے سامنے
رکھ دیئے شہ نے بہتر سر خُدا کے سامنے
جھلملاتے ہی رہیں گے حشر تک اشکِ اعزا
جھلملاتے ہیں رہیں گے یہ دیئے
ہم نے جلائے ہیں ہوا کے سامنے
اک سر کیا تھا ۔۔۔
اے طبیبِ عصرِ دوراں کیا مسیحائی تیری
اے طبیبِ عصرِ دوراں خاک ہے
تیری دوا خاک ِ شفائ کے سامنے
اک سر کیا تھا ۔۔۔
حشر تک وہ لوگ رُسوائے زمانہ ہو گئے
حشر تک وہ لوگ رُسوا آگئے تھے
جو شاہِ کرب و بلا کے سامنے
اک سر کیا تھا ۔۔۔
چھا گیا بن کر جلالِ حیدری دربار میں
چھا گیا بن کر جلالِ خطبہِ
زینب یزیدِبے حیا کے سامنے
اک سر کیا تھا ۔۔۔
اپنا سر ساحل سے ٹکرانے لگی موجِ فرا،ت
اپنا سر ساحل سے ٹکرا جب سکینہ
مشک لائی تھی چچا کے سامنے
اک سر کیا تھا ۔۔۔
دیکھیئے کیا ہو بوقتِ عزن ماں کے دل کا حال
دیکھیئے کیا ہو بوقتِ لائیں گے
قاسم کوجب دولہا بنا کے سامنے
اک سر کیا تھا ۔۔۔
تیر جب اصغر نے کھایا رو رہے تھے اشقیائ
تیر جب اصغر نے کھایا اور اصغر
ہنس رہے تھے اشقیائ کے سامنے
اک سر کیا تھا ۔۔۔
لے گیا سر کاٹ کر شبیر کا شمرِ لعین
لے گیا سر کاٹ کر زینب ِ
خستہ جگر کی التجا کے سامنے
اک سر کیا تھا ۔۔۔
ثانیئے زہرا کے سرسے اُس ردا کو لے گئے
ثانیئے زہرا کے سر سے دونوں عالم
سرد گو تھے جس ردا کے سامنے
اک سر کیا تھا ۔۔۔
میں نے پائی سر بلندی میں نے پایا ہے عروج
میں نے پائی سر بلندی سر جھکا
رہتا ہے میرا کربلا کے سامنے
اک سر کیا تھا ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.