Ek mehre karbala
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Tableegh e Imamia
اک مہرِ کربلا اور اُس کی تنویریں بہت
آئینے میں یوں نظر آتی ہیں تصویریں بہت
حاصل اشکِ غمِ شبیر جنت ہی نہیں
خُلد سے پہلے بھی ہیں مخصوص جاگیریں بہت
اک مہرِ کربلا ۔۔۔
توں بھی خاکِ کربلا اپنی جبیں پر مل کے دیکھ
ہم نے یوں بنتے ہوئے دیکھیں ہیں تقدیریں بہت
اک مہرِ کربلا ۔۔۔
رشتہِ قرآن و اہلیبیت کیا سمجھیں گے وہ
اپنی مرضی سے جو کر لیتے ہیں تفسیریں بہت
اک مہرِ کربلا ۔۔۔
تھا علی کا شیر آیا اور پانی لے گیا
سر پٹختی رہ گئیں دریا پہ شمشیریں بہت
اک مہرِ کربلا ۔۔۔
راستے کی ہر کڑی زنجیر کٹ کرگِر گئی
تھی اگرچہ پائوں میں عابد کے زنجیریں بہت
اک مہرِ کربلا ۔۔۔
اس میں شامل ہے لہو سبطِ پیعمبر کا عروج
کیوں نہ رکھے کربلا کی خاک تاسیریں بہت
اک مہرِ کربلا ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.