Na des apna hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Irfan Haider
کربلا سے چلی اک بے کس بہن
ہا اس عالمِ غربت میں وطن یاد آیا
سب شہیدوں کو کہتی ہو ئی ا لوداع
بھائی کی لاش پہ پہنچی تو کفن یاد آیا
خود کو ناقے سے گِرا کر زینب کہنے لگی رو کر
نہ دیس اپنا ہے نہ لوگ اپنے ہیں
میں کیسے کفن دوں میرے مظلوم برادر
نہ دیس اپنا ہے نہ لوگ اپنے ہیں
یہ دیکھ ذرا اے تشنہ دہن
شانوں کو میرے جکڑے ہے رسن
اور اُس پہ ستم ہے سر پر نہیں چادر
میں کیسے کفن دوں۔۔۔
نہ دیس اپنا ہے۔۔۔
کل ساتھ تیرے ہر گام چلی
اب قیدی بنی اور شام چلی
اس درد کے مارے روتی ہوں کھُلے سر
میں کیسے کفن دوں۔۔۔
نہ دیس اپنا ہے۔۔۔
بابا ہے امیرِکون و مکاں
ہے تیرا لقب سردارِ جناں
زینب تو ہوئی ہے بے چادر ے گھر
میں کیسے کفن دوں۔۔۔
نہ دیس اپنا ہے۔۔۔
اے بھائی تیری غربت کی قسم
تا مرگ نہیں بھُولوں گی یہ غم
پردیس میں آ کر نوحہ ہے لبوں پر
میں کیسے کفن دوں۔۔۔
نہ دیس اپنا ہے۔۔۔
کیا ظلم سہے تجھ کو ہے خبر
ہے آلِ محمد خاک بسر
ہفتم سے نہیں ہے پانی بھی میسر
میں کیسے کفن دوں۔۔۔
نہ دیس اپنا ہے۔۔۔
ہوتا جو مدینہ بھائی میرے
مل جاتا کفن مظلوم تجھے
اس دشتِ بلا میں مجبور ہے خواہر
میں کیسے کفن دوں۔۔۔
نہ دیس اپنا ہے۔۔۔
ہے کشتئہ تیغِ ظلم بتا
جب کوئی میرا یاور نہ رہا
مقتولِ جفا ہے عباس اور اکبر
میں کیسے کفن دوں۔۔۔
نہ دیس اپنا ہے۔۔۔
کیا کیا نہ ہوئی زینب پہ جفا
سب خیمے جلے اسباب لُٹا
پر سب سے بڑا ہے یہ غم میرے دل پر
میں کیسے کفن دوں۔۔۔
نہ دیس اپنا ہے۔۔۔
عرفان اور مظہر کہہ نہ سکے
جو بنتِ علی نے بین کیئے
پھٹتا ہے کلیجہ اس بات کو سُن کر
میں کیسے کفن دوں۔۔۔
نہ دیس اپنا ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.