Bhai ki nazar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Akbar Hussain
بھائی کی نظر کہتی ہے بھائی کی نظر سے
گر اذن ہو دریا ادھر آ جائے اُدھر سے
ہر دورِ بلا قید میں شِہ کا عزادار
زندہ ہے تو زہرا کی دُعائوں کے اثر سے
بھائی کی نظر کہتی ۔۔۔
ہے اشکِ غم شِہ کی طرح قابلِ تعظیم
وہ خون جو ماتم میں بہے سینہ و سر سے
بھائی کی نظر کہتی ۔۔۔
عباس کے بازو ہی قلم ہو گئے ورنہ
چھینی نہیں جاتی کبھی چادر کسی سر سے
بھائی کی نظر کہتی ۔۔۔
گہوارے سے بے دست گِرا کیسے زمیں پر
اُس کرب کو پوچھے کوئی سرور کے جگر سے
بھائی کی نظر کہتی ۔۔۔
کانوں میں بہت درد رہا پھر بھی سکینہ
جی بھر کے کبھی رو نہ سکی شمر کے ڈر سے
بھائی کی نظر کہتی ۔۔۔
سجاد کا ہر نقشِ قدم خون سے اُبھرا
زنجیر اُٹھائے ہوئے گزرے ہیں جدھر سے
بھائی کی نظر کہتی ۔۔۔
یہ تربیتِ مجلسِ سرور ہے کے شاہد
واقف ہوئے آدابِ سماعت کے ہنر سے
بھائی کی نظر کہتی ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.