Baatil ka zehr
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Tableegh e Imamia
باطل کا زہر پھیل رہا ہے ہوائوں میں
رہیئے ولائے آلِ محمد کی چھائوں میں
لے کر چلا ہے ہاتھ میں تقدیر دین کی
گردن میں جس کے طوق ہے زنجیر ہے پائوں میں
باطل کا زہر ۔۔۔
اک روز وہ زمین پر گِر کر بکھر گئے
اُڑتے رہے جو ظلم کی اندھی ہوائوں میں
باطل کا زہر ۔۔۔
ہے اب بھی دینِ حق کے اُجالوں کا پاسباں
زہرا کا چاند ظلم کی کالی گھٹائوں میں
باطل کا زہر ۔۔۔
یوں مُصطفٰی کی آبرو رکھ لی حُسین نے
اسلام کو بچا لیا گِھر کر بلائوں میں
باطل کا زہر ۔۔۔
بچے تو سو گئے شبِ عاشور چین سے
لیکن بپا تھا شور قیامت کا مائوں میں
باطل کا زہر ۔۔۔
اے مومنو بہن سے جُدا کیا ہوئے حسین
زینب کے بین آج تلک ہیں فضائوں میں
باطل کا زہر ۔۔۔
گُلشن کے پھول دیکھ کر مُرجھا گئے عروج
لپٹے جو خار حضرتِ عابد کے پائو ں میں
باطل کا زہر ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.