Muslim se koi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Mir Rehan Abbas
مسلم سے کوئی پوچھے زینب کی بے ردائی
کوفے میں جب بہن نے روداد غم سنای
بالوں سے منہ چھپا کر زینب یہ کہہ رہی تھی
بھیا ہماری غیرت پامال ہو چکی تھی
لیکن کسی کو رن میں بالکل حیا نہ آئی
مسلم سے کوئی پوچھے۔۔۔
آنکھیں تو کھولو اپنی ہر غم بھلا چکی ہوں
بھیا میں تم سے ملنے کوفے تک آ گیء ہوں
کوئی بچا نہ اپنا بچے رہے نہ بھای
مسلم سے کوئی پوچھے۔۔۔
جن کے سروں کی جانب سورج نے بھی نہ دیکھا
لیکن یہاں پہ بھیا مجمع شرابیوں کا
اہلِ حرم کی آ کر کرتا ہے رونمائی
مسلم سے کوئی پوچھے۔۔۔
چادر بھی چھن رہی تھی آنسوں بھی بہہ رہے تھے
خیمے بھی جل رہے تھے غم یوں ہی سہہ رہے تھے
تب خود علی نے آ کر ہمت میری بڑھای
مسلم سے کوئی پوچھے۔۔۔
ہونٹوں پہ ہچکیاں تھی پیروں میں آبلے تھے
کانٹوں کے راستوں پر ہم لوگ چل رہے تھے
سجاد کر کر رہے تھے اس وقت رہنمائی
مسلم سے کوئی پوچھے۔۔۔
عباس مر چکے ہیں اکبر بھی اب نہیں ہے
قاسم بھی مر چکے ہیں اصغر بھی اب نہیں ہیں
برباد ہو چکی ہے بھیا میری کمای
مسلم سے کوئی پوچھے۔۔۔
ہر سمت بے حیائ بازار میں کھڑی تھی
میں اک ردا کی خاطر پل پل تڑپ رہی تھی
لیکن تیری بہن نے بھیا ردا نہ پائی
مسلم سے کوئی پوچھے۔۔۔
اے شمس بی بیوں میں کہرام مچ گیا تھا
اک بھای اک بہن سے ریحان کہہ رہا تھا
مجبور اے بہن ہے اس وقت تیرا بھای
مسلم سے کوئی پوچھے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.