Mujhe qaidi samajh
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Safdar Abbas
مجھے قیدی سمجھ نہیں شیریں
کر غور زرا میں زینب ہوں
تیرے شہر میں دیکھ یہ حال ہوا
نہیں سر پہ ردا میں زینب ہوں
کر یاد وصیت بھای کی
مہمان بنینگے ہم تیرے
پہچان مجھے ان بالوں سے
چہرے پہ پڑے ہیں جو میرے
دل غم سے پھٹا جاتا ہے میرا
کر کوئی دوا میں زینب ہوں
مجھے قیدی سمجھ نہیں۔۔۔
جس شہر کی میں شہزادی تھی
آی ہوں وہاں قیدی بن کر
قرآں کی تلاوت کرتا ہے
وہ دیکھ میرے بھائی کا سر
پہچان مجھے کیا اور کہوں
اب اس کے سوا میں زینب ہوں
مجھے قیدی سمجھ نہیں۔۔۔
نظروں کو اٹھا کر دیکھ زرا
نیزوں پہ شہیدوں کے سر ہیں
بیمار بھتیجا ساتھ میرے
اور اہلِ حرم بے چادر ہیں
اولاد علی ہونے کی یہاں
پای ہے سزا میں زینب ہوں
مجھے قیدی سمجھ نہیں۔۔۔
شیریں کیا کیا بتلاؤں تجھے
جو ظلم سہے ہیں راہوں میں
سنتی ہے یتیموں کے نالے
کیا کرب ہے انکی آہوں میں
سہتی ہوں جفاییں امت کی
بے جرم خطا میں زینب ہوں
مجھے قیدی سمجھ نہیں۔۔۔
ہم آل محمّد ہے شیریں
یہ کنبہ کوئی اور نہیں
تو غور سے دیکھلے چہروں کو
پیروں سے تیرے نکلے گی زمیں
یہ ہے لیلیٰ یہ بانو ہے
یہ ہے فروہ میں زینب ہوں
مجھے قیدی سمجھ نہیں۔۔۔
صفدر روداد یہ زینب کی
سن کر بیہوش ہوی
کہتی تھی پیٹ کے سر اپنا
ہاے موت مجھے کیوں نہ آی
جب مجھ سے میری آقا زادی
زینب نے کہا میں زینب ہوں
مجھے قیدی سمجھ نہیں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.