Ajeeb zid hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Sachay Bhai
عجیب ضد ہے کہ اسلام آل سے مت لو
ہر ایک بات سنو ہر کسی سے فتوہ لو
کہے جو آل محمد اسے کبھی نہ سنو
ایک شہر علم کا در ہے ادھر کا رخ نہ کرو
سنی سنائی ہوی بات پر یقین کر لو
عجیب ضد ہے کہ۔۔۔
زباں پہ لاؤ نہ ہر گز نبی کی آل کا نام
جھکاؤ غیر کے در پر جبیں کو صبح و شام
یہ اہلبیت ہے بس لائق درود و سلام
انہیں تو دور سے ہی بس سلام کرتے رہو
عجیب ضد ہے کہ۔۔۔
بڑھای جس سے عبارت ہے یہ وہ اعظم ہے
اصول دیں ہے ابن رسول خاتم ہے
امام جعفر صادق امام عالم ہے
خدا کے واسطے کچھ تو سمجھ کی بات کرو
عجیب ضد ہے کہ۔۔۔
گھٹاؤ مرتبہ آل مصطفیٰ دن رات
اصول کثرت آسرا سے ان کو دیدو مات
یہ انتہاے وحدت ہے کہ ہر ایک وہ بات
جواں کے حق میں کہیں جاے اس کو کفر کہو
عجیب ضد ہے کہ۔۔۔
خدا کے واسطے اس ضد باز آجاؤ
جہاں میں دشمن آل نبی نہ کہلاؤ
گلا کٹا چکے شبیر کچھ ترس کھاؤ
نبی کی آل پہ اب تو ستم رواں نہ رکھو
عجیب ضد ہے کہ۔۔۔
یہ اہلبیت ہے حاصل انہیں یہ عظمت ہے
کہ لب پہ نام بھی آجاے تو عبادت ہے
سنے وہ دین محمد سے جن کو نسبت ہے
ہے چار چاند لگے ان سے دین محمد کو
عجیب ضد ہے کہ۔۔۔
ہر ایک بشر کو یہ حاصل کہاں سعادت ہے
جلی حروف سے قرآن میں عبارت ہے
کہ صرف آل ابراہیم میں امامت ہے
وہاں بھی شرط رکھی ہے نہ ظالمین میں ہو
عجیب ضد ہے کہ۔۔۔
ہے آل روح اور اسلام اس کا قالب ہے
قدم قدم پہ ان کی رضا کا طالب ہے
ہے کون جس پہ درود و سلام واجب ہے
ہے حق پرستی کا دعوہ تو حق کی بات کہو
عجیب ضد ہے کہ۔۔۔
زباں سے کہتے ہو دل سے یقین گر ہو جائے
خم اہلبیت کی چوکھٹ پہ تیرا سر ہو جائے
میں کربلا کہوں اور تیری چشم نم ہو جائے
عزیز جان سے ذیادہ حسین کا غم ہو
عجیب ضد ہے کہ۔۔۔
حسین جان دل مصطفیٰ پہ جان نثار
نظر میں تاب کہاں ہے جو دیکھے حالت زار
تن حزیں پہ ہے اتنے سناں و تیر کے وار
شمار کرنے پہ آے مگر شمار نہ ہو
عجیب ضد ہے کہ۔۔۔
پسر کی لاش پہ بیٹھے تھے سید والا
کہ ایک مرد خوش اتوار سامنے آیا
سلام کر کے کہا میں ہوں قاصد صغرا
تڑپ رہی ہے بلایا ہے اس نے اکبر کو
عجیب ضد ہے کہ۔۔۔
سنا جو فاطمہ صغریٰ کا نام سرور نے
کلیجے تھام لیا فاطمہ کے دلبر نے
تڑپ کے خاک پہ کروٹ لی لاشے اکبر نے
لرزتے ہاتھوں سے تھاما حسین نے خط کو
عجیب ضد ہے کہ۔۔۔
لکھا تھا خط میں ہزاروں سلام اکبر کو
دعائیں بالی سکینہ کو پیار اصغر کو
چچا کو لکھا تھا آداب اور سرور کو
لکھا تھا بابا گےء بھول آپ بھی مجھکو
عجیب ضد ہے کہ۔۔۔
میں رات دن یہاں بھای کی راہ دیکھتی تھی
اور آپ نے وہاں شادی رچا دی کبرا کی
کسی کو آی نہ ایسے میں یاد صغرا کی
بگڑ گیا ہے مقدر کہوں میں کیا اسکو
عجیب ضد ہے کہ۔۔۔
چچا کے پاس سکینہ ہے میں ہوں کون بھلا
پھپھی کو بھی نہیں آیا خیال کچھ میرا
سمجھتی ہونگی یہ اماں کے مر گیء صغرا
کسی کا بھی نہ جہاں میں ایسا نصیب ہو
عجیب ضد ہے کہ۔۔۔
یہ پڑھ کے آہ جو کی شہ نے آسماں لرزا
ہلا کے شانہء اکبر کہا کے اے بیٹا
بلایا ہے تمہیں صغرا نے دوں جواب میں کیا
مدینے جاؤ گے کب تک بہن کے لانے کو
عجیب ضد ہے کہ۔۔۔
تڑپ کے پھر یہ صدا دی حسین نے عباس
کوی نہیں ہے اس آفت میں جو بندھاے آس
ترای چھوڑ کے آجاؤ دو گھڑی کو پاس
جواب مانگا ہے صغرا نے کیا لکھوں اس کو
عجیب ضد ہے کہ۔۔۔
تمہیں بتاؤ کہ میں دل کا حال کس سے کہوں
قریب عصر ہے مہمان دو گھڑی کا ہوں
بلک رہی ہے وہ دکھیا وطن میں کیا کہہ دوں
رہا ہے کیا میرے پاس اب اسے بتانے کو
عجیب ضد ہے کہ۔۔۔
پھر اس کے بعد قاصد سے شہ نے فرمایا
شہید ہو گےء عباس چل بسا دولہا
یہ دیکھ سامنے اکبر کا ہے پڑا لاشہ
کوی نہ آیا میری لاش تک اٹھانے کو
عجیب ضد ہے کہ۔۔۔
ابھی ستم ہے مجھے اور سہنا اے قاصد
صدا کسے ہے زمانے میں رہنا اے قاصد
یہ جا کے فاطمہ صغرا سے کہنا اے قاصد
جو ہو سکے تو وہ اب بھول جاے اصغر کو
عجیب ضد ہے کہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.