Abid ki nigahon may
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Hadi Ali Khan Muslim
عابد کی نگاہوں میں ہر کرب کا منظر ہے
یلگار ہے گھوڑوں کی اور قاسم بے پر ہے
ٹوٹی ہوی برچھی ہے اور سینۂ اکبر ہے
حلقوم علی اصغر اور تیر ستمگر ہے
نیزے کی بلندی ہے اور پھول سا اک سر ہے
عابد کی نگاہوں میں۔۔۔
ہے عالم تنہائی اور ظلم کا لشکر ہے
نرغہ ہے لعینوں کا اور جان پیمبر ہے
تیغوں سے بدن زخمی اور تیروں کا بستر ہے
شبیر کی گردن ہے اور شمر کا خنجر ہے
عابد کی نگاہوں میں۔۔۔
اٹھتی ہے تلواریں چلتے ہوے نیزے ہے
سب زخمی بدن گویا مشکوں کے دہانے ہیں
ہر سمت سے حملے ہے عباس اکیلے ہیں
پیاسے کا سر زخمی اور گرز ستمگر ہے
عابد کی نگاہوں میں۔۔۔
کربل کے بیاباں میں آثار ہے محشر کے
بکھرے ہوے میداں میں لاشے ہیں بہتر کے
زینب کی نگاہوں میں سب زخم ہے سرور کے
جلتی ہُوئی ریتی ہے اور لاشہء بے سر ہے
عابد کی نگاہوں میں۔۔۔
خاموش بیاباں ہے اور شام غریباں ہے
ہر آنکھ میں اشکوں کا ٹہرا ہوا طوفاں ہے
بیوؤں کا یتیموں کا اب کون نگہباں ہے
جلتے ہوے خیمے ہیں چھنتی ہوی چادر ہے
عابد کی نگاہوں میں۔۔۔
بازار میں سر ننگے احمد کا گھرانہ ہے
جکڑا ہوا رسی میں ہر بی بی کا شانہ ہے
اس حال میں زینب کو دربار بھی جانا ہے
ہر سمت تماشائی زینب کا کھلا سر ہے
عابد کی نگاہوں میں۔۔۔
ہے پشت سکینہ پر دروں کے نشاں سارے
کانوں سے لہو جاری رخسار بھی ہیں سوجھے
زخموں میں جلن جیسے بھردے کوئی انگارے
ہر لمحہ طمانچے ہیں ہر گام پہ محشر ہے
عابد کی نگاہوں میں۔۔۔
دربار میں قیدی ہے اولاد پیمبر کی
سر طشت میں سرور کا کیسی یہ عداوت تھی
ہونٹوں پہ شہ دیں کے ظالم نے چھڑی رکھی
زینب کی نظر ہر دم بھای کے لبوں پر ہے
عابد کی نگاہوں میں۔۔۔
وہ سجدۂ شکرانہ ہنگام قیامت میں
چلتا رہا کانٹوں پر جو دھوپ کی شدت میں
روتے ہیں سدا احسن ہم جس کی مصیبت میں
اس کے لئے نظرانہ اشکوں کا سمندر ہے
عابد کی نگاہوں میں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.