Royegi maa auno
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Haz. Aun O Mohd (a.s) recited by Raza Abbas Zaidi
ہاے جب اہلِ حرم قید سے یثرب پہنچے
لڑکھڑاتے ہوئے زینب نے قدم گھر میں رکھے
ماں نے جب عون و محمد کے مصلے دیکھے
صبر پھر ٹوٹ گیا بولی یہ زینب رو کے
آج جی بھر کے تمہیں روئے گی ماں عون و محمد
اے میرے دل کا سکوں اے میری جان عون و محمد
جب سے بھائی پہ تمہیں صدقہ کیا زینب نے
پھر تمہارا کبھی پرسہ نہ لیا زینب نے
صبر اب ہوگا نہیں مجھ سے یہاں عون و محمد
آج جی بھر کے تمہیں۔۔۔
خود کو اس وقت سنبھالا تھا بڑی مشکل سے
کیسے بھیجا تھا تمہیں پوچھو یہ میرے دل سے
تم تھے اس ماں کے لئے دونوں جہاں عون و محمد
آج جی بھر کے تمہیں۔۔۔
ساتھ جن بچوں کے ان گلیوں میں تم کھیلتے تھے
ہیں کہاں عون و محمد وہ یہ جب پوچھیں گے
کیا بتائے گی یہ ماں تم ہو کہاں عون و محمد
آج جی بھر کے تمہیں۔۔۔
ماں کے مامتا کا بڑا مان رکھا ہے تم نے
نہر پر جا کے بھی پانی نہ پیا ہے تم نے
کر دیا قتل تمہیں تشنہ دہان عون و محمد
آج جی بھر کے تمہیں۔۔۔
بھائی کے لاش پہ جاتے ہوئے دیکھا میں نے
ہائے قاسم کی طرح دشت میں تم بکھرے تھے
میں تمہارے وہ بدن بھولی کہاں عون و محمد
آج جی بھر کے تمہیں۔۔۔
بس یہ میں جانتی ہوں کیسے وہاں صبر کیا
دیکھ کر نیزوں پہ سر جس گھڑی لیلیٰ نے کہا
تم کہاں اور کہاں نوک سناں عون و محمد
آج جی بھر کے تمہیں۔۔۔
جیسے گستاخی وہ کرتے تھے سر اصغر سے
شام کے بچوں نے کھیلا ہے تمہارے سر سے
ٹھوکریں ماری گئیں تم کو وہاں عون و محمد
آج جی بھر کے تمہیں۔۔۔
ہائے ذیشان و رضا بولی یہ زینب رو کر
دو ہی بیٹے تھے جو قربان کئے بھائی پر
کہنے والا نہ رہا اب کوئی ماں عون و محمد
آج جی بھر کے تمہیں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.