Mere sar pe lillah
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Nadeem Sarwar
ہاے سلامی لعینوں نے کیا کیا جفا کی
نشاتی ہوی یا مشکل کشاء کی
تھی شام غریباں قیامت بپا تھی
اک ایک ہاتھ زینب کی چادر تک آیا
وہ زینب کے لب پر فقط اک صدا تھی
میرے سر پہ لللہ رہنے دے چادر
کچھ ہے شمر قیمت سمجھ اس ردا کی
کہ ایک پاک چادر ہے خیرالنسا کی
میرے سر پہ لللہ۔۔۔
کھلے سر جسے بھاییںوں نے نہ دیکھا
اٹھا رات میں جس کی ماں کا جنازہ
وہ دن میں ہے محتاج بس اک ردا کی
میرے سر پہ لللہ۔۔۔
لو باندھو میرے ہاتھ کہتی تھی زینب
نہ چھینو ردا کہہ کے روتی تھی زینب
میں مظلوم بیٹی ہوں مشکل کشاء کی
میرے سر پہ لللہ۔۔۔
زرا جاگ اے میرے غیور بھای
کہ اب بات میری ردا تک ہے آی
بہن کو ضرورت ہے تیری وفا کی
میرے سر پہ لللہ۔۔۔
اٹھو میرے سجاد جلتے ہیں خیمے
سنبھالوں اکیلی میں بچوں کو کیسے
میں کیسے سہوں سختیاں اشقیاء کی
میرے سر پہ لللہ۔۔۔
وہ شام غریباں میں بابا کا آنا
وہ زینب کا ہاتھوں سے چہرہ چھپانا
خدا سے ردا کے لئے التجاء کی
میرے سر پہ لللہ۔۔۔
تماشائی کوفے کی گلیوں میں کہتے
زمانے بدلتے ہیں لمحوں میں کتنے
کہ سر ننگے زینب ہے قدرت خدا کی
میرے سر پہ لللہ۔۔۔
وہ ماییں وہ بہنیں کنیزان زینب
جو ہے آج بھی پرسہ داران زینب
رکھے لاج زینب کی بس اس صدا کی
میرے سر پہ لللہ۔۔۔
گےء ان کے روضے پہ ریحان و سرور
ملا کے سکوں شہ کا نوحہ سنا کر
خلش آج تک ہے مگر اس بکا کی
میرے سر پہ لللہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.