Roke shabbir pukare
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Haz. Aun O Mohd (a.s) recited by Mir Rehan Abbas
رو کے شبیر پکارے کہ خدا خیر کرے
تو نے اسلام پہ گھر بار لٹایا اپنا
اب تو دنیا میں تمہارا نہیں کوئی بھی بچا
ہائے بچوں کے ستانے لگے مجھکو صدمے
اب نظر آتے نہیں عون و محمد زینب
رو کے شبیر پکارے۔۔۔
آرزو تھی میری زندہ رہیں دونوں بچے
میری ہمشیر گھرانہ تیرا آباد رہے
یہ نہ دنیا میں رہیں گے تو جیو گی کیسے
اب نظر آتے نہیں عون و محمد زینب
رو کے شبیر پکارے۔۔۔
جانے کیوں دل میرا سینے میں دھڑکتا ہے بہت
ہو بیاں کیسے کلیجہ میرا پھٹتا ہے بہت
چاہتا ہوں کہ سلامت رہیں پیاسے بچے
اب نظر آتے نہیں عون و محمد زینب
رو کے شبیر پکارے۔۔۔
زندہ پھر عون و محمد کو کہاں پائیں گے
جب ستمگر سم اسپ سے کچل ڈالیں گے
کمسنی انکی رلاتی ہے مجھے رہ رہ کے
اب نظر آتے نہیں عون و محمد زینب
رو کے شبیر پکارے۔۔۔
کمسنی میں بھی وہ مقتل کو سدھارے زینب
اب نہ آئیں گے پلٹ کر وہ دلارے زینب
ہائے صحرائے عطش میں تیرے بچے ہیں گرے
اب نظر آتے نہیں عون و محمد زینب
رو کے شبیر پکارے۔۔۔
جس گھڑی عون و محمد کے قریب یہ پہنچے
دیکھے جاتے نہیں شبیر سے زخمی لاشے
دونوں لاشوں سے لپٹ کر شہ والا بولے
اب نظر آتے نہیں عون و محمد زینب
رو کے شبیر پکارے۔۔۔
ہائے لاشوں سے لپٹ کر شہ والا نے کہا
مانگی کیوں عالم طفلی میں بھی مرنے کی رضا
میتیں ثانیء زہرا کو دکھاؤں کیسے
اب نظر آتے نہیں عون و محمد زینب
رو کے شبیر پکارے۔۔۔
بولے کس طرح سے زینب کو دکھاؤں میں بھلا
اے مبارک لئے لاشوں کو چلے شاہ ہدا
در تلک پہنچے اے ریحان وہ کہتے کہتے
اب نظر آتے نہیں عون و محمد زینب
رو کے شبیر پکارے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.