Jeete raho auno
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Haz. Aun O Mohd (a.s) recited by Irfan Haider
کچھ ایسے لڑے جنگ میں زینب کے دلارے
میداں سے عدو بھاگے سبھی خوف کے مارے
غل تھا کہ رن ایسا کبھی پڑتے نہیں دیکھا
بچوں کو اس انداز سے لڑتے نہیں دیکھا
بڑھتے تھے کبھی گاہ سرک جاتے تھے عباس
جب وار وہ کرتے تھے تو یہ فرماتے تھے عباس
جیتے رہو عون و محمد
تیغ زمیں کا ہنر تم ہی دکھاتے رہو
خون سے تلوار کی پیاس بجھاتے رہو
دشمن شبیر کی ہستی مٹاتے رہو
حیدری جاہ و ہشم اور بڑھاتے رہو
ایسے لڑو پھر ہی کہے فاتح خیبر
جیتے رہو عون و محمد۔۔۔
ایسے چلے تیغ اب دشت و دمن کاٹ دے
وار کرو سر پہ تم کر وہ بدن کاٹ دے
مرحب و انتر کے دل زیرِ کفن کاٹ دے
نہر کی ہر موج کو تشنہ دہن کاٹ دے
جھوم کے خود تیغِ علی بولے مکرر
جیتے رہو عون و محمد۔۔۔
قلب میں جا کر لڑو لشکرِ کفار کے
چہرے پہ تیور رکھو جعفر طیار کے
ضرب میں انداز ہو حیدر کرار کے
جاگ اٹھے دشت سے اہلِ ستم ہار کے
آے بقیع سے صدا دوش ہوا پر
جیتے رہو عون و محمد۔۔۔
سائے سے تلوار کے موت بھی بچ کر چلے
ایک قدم آگے نہ پیچھے یہ لشکر چلے
چاروں طرف دشت میں موت کا منظر چلے
موت کہے کام کیا دونوں جری کر چلے
میرے ہنر تم نے دکھائے ہیں یہاں پر
جیتے رہو عون و محمد۔۔۔
ہر بار صدا دیتے تھے اے گیسوؤں والوں
کیا کہنا ہے پھر بڑھ کے وہی ہاتھ نکالو
رہوار بڑھے جاتے ہیں باگوں کو سنبھالو
حلقہ ہے کڑی آنکھ زرہ پوشوں پہ ڈالو
ان ہاتھوں کے بوسے کے لئے آئے پیمبر
قاسم بھی کہے میں بھی کہوں اور علی اکبر
جیتے رہو عون و محمد۔۔۔
عون یہ کہنے لگے خوب محمد لڑے
گویا محمد ہوئے عون بھی بے حد لڑے
موت کو بھی دشت میں کرتے ہوئے رد لڑے
دونوں لڑے اس طرح جیسے ابو جد لڑے
ماں بھی در خیمہ پہ کہنے لگی رو کر
جیتے رہو عون و محمد۔۔۔
لڑتے ہوئے نہر پر آگئے المختصر
نرغہء اعداء میں پھر گھر گئے دونوں پسر
تیر کہیں سے چلے اور کہیں سے تبر
شاہ کو آواز دی گرتے ہوئے خاک پر
پہنچے شہ کربوبلا تھا یہی لب پر
جیتے رہو عون و محمد۔۔۔
آ گئے عباس کی آنکھوں میں اشک عزا
جیت گئے پیاس سے نہر پہ وہ مہ لقا
نرغہء اعداء میں بھی دونوں کو یہ یاد تھا
ماں کی نصیحت پہ ہی ہو گئے دونوں فدا
شکر کے سجدے میں گری مادرِ مضطر
جیتے رہو عون و محمد۔۔۔
دونوں کو میدان سے خیمے میں لائے حسین
حلقہ کئے لاشوں کا کرنے لگے سب ہی بین
فضہ نے آواز دی بنت شہ مشرقین
شاہ پہ صدقے ہوئے دیکھ تیرے نورِ عین
زینب مضطر نے کہا شانے ہلا کر
جیتے رہو عون و محمد۔۔۔
کیا حشر تھا خیمے میں بپا مظہر و عرفان
شبیر جو لاشوں پہ ہوئے چاک گریباں
لاشوں سے مخاطب یوں ہوئی زینبِ ذیشان
تم بھائی پہ قرباں ہوئے تجھ پہ میں قرباں
جیتے رہو عون و محمد۔۔۔
جو کہہ کے چلے گھر سے وہی کر کے دکھایا
اب قدر ہوئی ماں کو بڑا فخر ہے تم پر
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.