Mai qaidi hoo
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Mir Hasan Mir
نہ مارو نہ مارو
ہائے پتھر نہ مارو
پتھر برسانے والوں
میں قیدی پردیسی ہوں
مجھکو تڑپانے کی خاطر
زہرا کو رلانے کی خاطر
رستوں کو سجانے والوں پردیسی ہوں
پتھر برسانے والوں۔۔۔
سنتے ہو اذاں میں نام اس کا
در اصل وہ ہے میرا نانا
آئے ہو تماشائی بن کر
بے مقنہ لہو میں بے چادر
اے مجھکو رلانے والوں پردیسی ہوں
پتھر برسانے والوں۔۔۔
کانٹوں پہ چلاتے ہو مجھکو
ہر گام ستاتے ہو مجھکو
دروں سے اذیت دیتے ہو
رونے پہ قیامت ڈھاتے ہو
بازار میں لانے والوں پردیسی ہوں
پتھر برسانے والوں۔۔۔
دن دھوپ میں ہے شب اوس میں ہے
ہر ایک لمحہ افسوس میں ہے
زردی ہے الم کی چہروں پر
اور گرد سفر ہے بالوں پر
دل میرا دکھانے والوں پردیسی ہوں
پتھر برسانے والوں۔۔۔
اس شہر کی میں شہزادی تھی
سب کو پردہ سکھلاتی تھی
آزاد کنیزوں کو بھی کیا
اپنا یتیموں کو سمجھا
مجھے قیدی بنانے والوں پردیسی ہوں
پتھر برسانے والوں۔۔۔
سائے میں نہیں چلنے دیتے
آرام نہیں کرنے دیتے
گرتے ہیں جو اونٹوں سے
بچے مرتے ہیں وہ دب کر پیروں سے
اے رحم نہ کھانے والوں پردیسی ہوں
پتھر برسانے والوں۔۔۔
میرے بھائی بھتیجے مار دیئے
سر کاٹ کے پھر نیزوں پہ رکھے
رستے میں کوئی ٹھوکر کھاتا ہے
بیمار کو غش آ جاتا ہے
اے زخم لگانے والوں پردیسی ہوں
پتھر برسانے والوں۔۔۔
ریحان میری آقا زادی
دربار میں یوں تھی فریادی
کہرام بپا دربار میں تھا
اس وقت نبی زادی نے کہا
گھر میرا جلانے والوں پردیسی ہوں
پتھر برسانے والوں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.