Ay aun o mohamad
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Haz. Aun O Mohd (a.s) recited by Mir Hasan Mir
کہتی تھی یہ زینب یوں ماں کا مان نبھانا
اے عون و محمد اے عون و محمد
شبیر کا تم صدقہ ہو اب خیمے میں بیٹا
تم لوٹ کر نہ آنا اے عون و محمد
ہے ماں کو یقین تم ماں کی بات رکھوگے
یہ یاد رہے خیموں میں ہیں پیاسے بچے
دریا پہ اگر جانا ہو سہہ روز کے پیاسوں
تم پیاس نہ بجھانا اے عون و محمد
اے عون ومحمد۔۔۔
ہر حال میں تم پر لازم ہے شکر خدا کا
اے شہزادوں ہے صبر تمہارا ورثہ
فرزند ہو تم زینب کے شکوہ نہیں کرنا
جب زخم کوئی کھانا اے عون و محمد
اے عون ومحمد۔۔۔
کب ہم پہ ستم کر نے کے لئے آئے ہیں
یہ بدرواُحد کے بدلے کے لئے آئے ہیں
لازم ہے رجز سے پہلے میدان میں تم پر
مدحِ علی سنانا اے عون و محمد
اے عون ومحمد۔۔۔
جب سانس تمہاری بچوں ہو اُکھڑنے والی
اُسوقت سرہانے آئیں گی مادر میری
دل کی یہ میری خواہش ہے اُس دم میری ماں سے
زخموں کو تم چھپانا اے عون و محمد
اے عون ومحمد۔۔۔
قاتل پہ کرم نانا کی طرح کردینا
یوں لاج میرے بھائی کے نام کی رکھنا
جو واسطہ دے بھائی کا میدان میں اُس پر
تم تیغ نہ چلانا اے عون و محمد
اے عون ومحمد۔۔۔
جب لاشے اُٹھا کرخیمے میں لائے سرور
زینب یہ بولی اشکوں کو اپنے چھپا کر
میں بھی نہ تمہیں روونگی اور میرے لئے بھی
آنسو نہ تم بہانہ اے عون و محمد
اے عون ومحمد۔۔۔
تعظیم کی خاطر کیوں اُٹھتے نہیں اب بیٹا
دیکھو تو سرہانے آئے ہیں میرے بھیا
جاگو میرے شہزادوں کیا بھول گئے ہو
قدموں پہ سر جھکانا اے عون و محمد
اے عون ومحمد۔۔۔
شاباش میرے بچوں ہوں میں تم سے راضی
یہ کہہ کہ تکلم خاموش ہوئی شہزادی
نیزوں پہ سفر کر کے ہمراہ ہمارے
تم کو ہے شام جانا اے عون و محمد
اے عون ومحمد۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.