Ae musalman kaash socha hota kay Muhammad ka nawasa hay yeh
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Ravi Road Party
اے مسلماں کاش سوچا ہوتا
کہ محمد کا نواسہ ہے یہ
حالت سجدہ میں ہے بے کس و مجبور بھی ہے
اور کئی روز کا پیاسا ہے یہ
عقل حیراں تھی اسے بندہ کہ رحمان کہے
نوک نیزہ پہ اسے بولتا قرآن کہے
یا تو رب ہے جو کہ بندے سا نظر آتا ہے
گر ہے انسان تو خدا سا ہے یہ
بولی زینبؑ ظلم شبیر ؑ پہ ڈھانے والو
پتھروں کے تلے میت کو چھپالے والو
ہائے کاندھے پہ اٹھاتے تھے جنہیں ختم رسل
میرے اس بھائی کا لاشہ ہے یہ
جس کا غازی ؑ نہ رہا اور علی اکبرؑ نہ بچا
بھائی کی لاش پہ کھل کر جسے رونے نہ دیا
آج ماتم سر بازار جو ہم کرتے ہیں
اِسی زینب کا دلاسہ ہے یہ
سیدوں کا بھرا گھر بار جلایا کیوں ہے
بیبیوں کو بھرے بازار پھرایا کیوں ہے
تو نے تو یہ بھی نہ سوچا کہ جو قیدی ہیں بنے
پاک زیراؑ کا اساسہ ہے یہ
میں ہوں زینبؑ مجھے حیدر تو سمجھتا کیوں ہے
سن کے خطبہ میرا ملعون بگڑتا کیوں ہے
بولی زینب کہ یہ خطبہ ہی نہیں سن اے یزید
پاک قرآں کا خلاصہ ہے یہ
ثانیءِ زہرا کی اختر یہ عطا ہے تجھ کو
نوحہ لکھنے کے لئے درد ملا ہے تجھ کو
تیرے الفاظ میں یہ فاطمہ زیرا کی دعا
تیرا انداز جدا سا ہے یہ
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.