Zainab ka jo abbas
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Shadman Raza
زینب کا جو عباس تھا لشکر کے برابر
اس کی بھی لحد بن گیء اصغر کے برابر
وہ شیر گرا خاک پہ پشت فرس سے
بے دست پہ تلوار و سناں تیر تھے برسے
وہ وقت تھا شبیر پہ محشر کے برابر
اس کی بھی لحد بن گیء۔۔۔
زینب کا جو عباس تھا۔۔۔
ٹکڑوں میں جو شبیر کا عباس بٹا تھا
اعلان سر دشت یہ تب کرتے تھے اعدا
بدلے بھی ہوے بدر کے خیبر کے برابر
اس کی بھی لحد بن گیء۔۔۔
زینب کا جو عباس تھا۔۔۔
گہنا گیا بن میں بنی ہاشم کا قمر بھی
بعد اسکے جھکی کرب سے مولا کی کمر بھی
جو واسطے بہنوں کے تھا چادر کے برابر
اس کی بھی لحد بن گیء۔۔۔
زینب کا جو عباس تھا۔۔۔
نیزے سے بھی عباس کا سر گرتا رہا تھا
در اصل تقاضہ تھا یہ آقا سے وفا کا
کیسے وہ ٹہرتا سر سرور کے برابر
اس کی بھی لحد بن گیء۔۔۔
زینب کا جو عباس تھا۔۔۔
بے بازو تھا بے سر بھی تھا بے غسل و کفن تھا
رب جانے اسے کس طرح عابد نے سمیٹا
تدفین سر دشت کی ٹکڑوں کے برابر
اس کی بھی لحد بن گیء۔۔۔
زینب کا جو عباس تھا۔۔۔
شبیر کے لشکر میں سب اصحاب جری تھے
یہ وصف مگر خاص تھا عباس کا ہاے
لگتا تھا اکیلا وہ بہتر کے برابر
اس کی بھی لحد بن گیء۔۔۔
زینب کا جو عباس تھا۔۔۔
جو بغض محمد سے تھا زہرا و علی سے
مظلوم حسن اور حسین ابنِ علی سے
غازی سے لیےء بدلے بھرے گھر کے برابر
اس کی بھی لحد بن گیء۔۔۔
زینب کا جو عباس تھا۔۔۔
نوحے کو صحاب ایک ہی مصرے میں اتارا
جب شادماں یہ روضہء عباس پہ بولا
حق تھا کہ لحد ہو تیری حیدر کے برابر
اس کی بھی لحد بن گیء۔۔۔
زینب کا جو عباس تھا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.