Ya baabe hawaij
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Irfan Hussain
فلک کا بوجھ اکیلے سنبھال سکتا ہوں
میں پل میں سارے سمندر کھنگال سکتا ہوں
علی کا لال ہوں عباس نام ہے میرا
میں آفتاب سے دریا نکال سکتا ہوں
علمدار وفا علمدار وفا
یا باب حوایج یا باب حوایج
تو ابن سقی ابن سقی ابن سقی ہے
جو شہ تیرے دربار پہ مانگی وہ ملی ہے
تقدیر تیرے نقش قدم پہ ہی چلی ہے
حد ہے کہ علی کہتے ہیں یہ میرا علی ہے
دنیا میں وفا تجھ سے ہی مشہور ہوی ہے
پھیلاتے ہیں دامن ہم در پہ تمہارے
غازی زرا کردے قسمت کو اشارے
دیتے رہے ہم حشر تلک شاہ شاہ کا پرسہ
یا باب حوایج۔۔۔
بیمار جو مومن ہیں شفا دے غازی
جو قید ہیں بے جرم چھڑا دے انہیں غازی
جو بچھڑے ہیں کنبے سے ملا دے انہیں غازی
محتاج دعا جو ہے دعا دے انہیں غازی
جو دشمن ماتم ہے مٹادے انہیں غازی
قایم رہے ماتم بھولے نہ تیرا غم
سینوں میں صدا ہو آباد محرم
ہر سال بچھاتے رہے ہم فرش عزا کا
یا باب حوایج۔۔۔
ہو لاکھ مخالف یہ زمانے کی ہوایں
خاموش نہ ہو ہاے حسینا کی صدایں
ہم اپنی خوشی بھولے تیرا غم نہ بھلایں
ہونٹوں پہ رہے شکر خدا سہ کے جفایں
بازو ہو جدا کر تیرا پرچم نہ اٹھایں
آے تیرے در پر ہم بن کے سوالی
صدقے تیرے غم پر ہر غم سے ہو دوری
ہوجائے ہر ایک دل میں محبت کا سویرا
یا باب حوایج۔۔۔
کیا خوب نبھایا ہے محبت کا تقاضہ
تم جیسی قایم تو کوئی کر نہیں سکتا
بچپن سے تمہیں یاد تھا جو درس تھا ماں کا
شبیر کو سمجھا ہے صدا آقا و مولا
آنچ آے نہ مظلوم پہ جب تک رہے زندہ
تن پر جو تمہارے بازو ہے سلامت
شہ کی طرف آے کس میں ہے یہ ہمت
رہتے تھے تیرے رعب سے اعدا تہہ و بالا
علمدار وفا عباس علمدار وفا عباس
تو غازی علمدار ہے سقاے سکینہ
تو شیر دل افگار ہے سقاے سکینہ
پیاسوں کا مددگار ہے سقاے سکینہ
علمدار وفا عباس علمدار وفا عباس
یا باب حوایج۔۔۔
کرنے لگا جب ظلم و ستم شام کا لشکر
محروم ہوی آب سے جب آل پیمبر
جھولے میں تڑپتا رہا چھ ماہ کا اصغر
کیا دل پہ گزرتی تھی میرے شیر دلاور
پانی کی صدا ہوتی تھی جب پیاسے لبوں پر
پیارے میرے عمو کہتی تھی سکینہ
پردیس میں اپنا مشکل ہوا جینا
سیراب کرے آل پیمبر کو خدایا
یا باب حوایج۔۔۔
اس وقت تکلم تھی بپا کیسی قیامت
رو رو کے جو شہ کہتے تھے ہاے میری غربت
اور خون میں تر سامنے تھی بھائی کی میت
اٹھے نہ میری لاش تھی غازی کی وصیت
شرمندہ ہوں دیکھے نہ سکینہ میری صورت
اور شہ کا تھا نوحہ ہاے میرے بھائی
میں ہوگیا تنہا کی تم نے جدائی
مرنے سے تیرے ہوگیا غم بیٹا علی کا
علمدار وفا عباس علمدار وفا عباس
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.