Kya kare abbas
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Mir Hasan Mir
رسن میں ہاتھ بندھے ہیں بہن ہے بے پردہ
سناں سے سر نہ گراے تو کیا کرے عباس
ہاے عباس ہاے ہاے عباس ہاے ہاے عباس
پدر کی لاش سے اسکو چھڑایا جاتا ہے
ستم ہے ناقے پہ تنہا بٹھایا جاتا ہے
رسن میں بالی سکینہ کا بند رہا ہے گلا
سناں سے سر نہ گراے تو کیا کرے عباس
ہاے عباس ہاے ہاے عباس۔۔۔
رسن میں ہاتھ بندھے ہیں۔۔۔
وہ کس طرح سے تسلی دے آکے مادر کو
کیا ہے دشت میں دو بار ذبح اصغر کو
لحد سے آ گیا نیزے پہ جسم اصغر کا
سناں سے سر نہ گراے تو کیا کرے عباس
ہاے عباس ہاے ہاے عباس۔۔۔
رسن میں ہاتھ بندھے ہیں۔۔۔
چھپا کے بالوں سے منہ شرمسار ہوتی ہے
وہ پشت ناقہ پہ اب خود سوار ہوتی ہے
یہ کیسا وقت ہے زہرا کی بیٹیوں پہ پڑا
سناں سے سر نہ گراے تو کیا کرے عباس
ہاے عباس ہاے ہاے عباس۔۔۔
رسن میں ہاتھ بندھے ہیں۔۔۔
دھیان لاشہء شبیر سے ہٹانا تھا
دوبارہ سید سجاد کو بچانا تھا
گری ہے ناقے سے مقتل میں ثانیء زہرا
سناں سے سر نہ گراے تو کیا کرے عباس
ہاے عباس ہاے ہاے عباس۔۔۔
رسن میں ہاتھ بندھے ہیں۔۔۔
کہیں پہ قاسم و اکبر کہیں پہ عون کا سر
کہیں ہے لال رقیہ کے اور کہیں اصغر
وہ بچے نیزوں پہ ہے گود میں جنہیں پالا
سناں سے سر نہ گراے تو کیا کرے عباس
ہاے عباس ہاے ہاے عباس۔۔۔
رسن میں ہاتھ بندھے ہیں۔۔۔
ہے نیل چہرے پہ اتنے طمانچے مارے ہیں
لعیں نے کھینچ کے کانوں سے در اتارے ہیں
کہ دونوں کانوں سے معصوم کے لہو بہتا
سناں سے سر نہ گراے تو کیا کرے عباس
ہاے عباس ہاے ہاے عباس۔۔۔
رسن میں ہاتھ بندھے ہیں۔۔۔
سر اسکا کیسے سناں پر کوئی اٹھا کے چلے
جو شہ کے سامنے نظریں سدا جھکا کے چلے
تقاضہ میر تکلم ہے اسکی غیرت کا
سناں سے سر نہ گراے تو کیا کرے عباس
ہاے عباس ہاے ہاے عباس۔۔۔
رسن میں ہاتھ بندھے ہیں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.