Kufe ke shehriyo ko
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Kazmi Brothers
کہدو کوئی ہوا سے خاک اس طرح اڑاے
کوفے کے شہریوں کو زینب نظر نہ آے
آنکھوں کو بند کرکے زینب ہے منہ چھپائے
کوفے کے شہریوں کو زینب نظر نہ آے
اب جم چکی سروں پر خیموں کی راخ اڑ کر
چادر نہیں سروں پر اب سر ہے اور پتھر
ان بی بیوں کے سر سے اب اٹھ گےء ہیں ساے
کوفے کے شہریوں کو۔۔۔
بازو بندھا کے اپنے مقتل سے جا رہی ہے
آے نظر جو اسکو اک لاش آ رہی ہے
کیسے نظر ہٹاے کیسے قدم بڑھائے
کوفے کے شہریوں کو۔۔۔
سر اپنا چوبے محمل سے مارتی ہے زینب
بہتا ہے خون جیسے جاں وارتی ہے زینب
نیزے پہ سر جو شہ کا محمل کے پاس آے
کوفے کے شہریوں کو۔۔۔
بڑھتا ہے جب بھی کوئی خود بڑھکے ٹوکتی ہے
ہر تازیانہ اپنے ہاتھوں پہ روکتی ہے
فضہ جو اپنے پیچھے زینب کو ہے چھپائے
کوفے کے شہریوں کو۔۔۔
دیوار و در کو صغرا کیا دے جواب آخر
سناٹا پوچھتا ہے کب آےنگے مسافر
صغرا کا حال کیا ہے کیسے کوئی بتائے
کوفے کے شہریوں کو۔۔۔
یہ قرض آنسوؤں کا ہاے چکے تو کیسے
ہے یہ نوید دریا دریا رکے تو کیسے
زینب کی بے ردائی سجاد کو رلاے
کوفے کے شہریوں کو۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.