Shabbir hai tanha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Anj. Parwane Shabbir
شبیر ہے تنہا میرا عباس کہاں ہے
دو لاکھ کے نرغے میں محمد کا نشاں ہے
ہمدرد کہاں کوئی ہر ایک دشمن جاں ہے
اب موت ہی حیدر کے دلارے کی عماں ہے
مقتل کے فضاؤں میں یہ زہرا کی فغاں ہے
شبیر ہے تنہا۔۔۔
بڑھتے ہے لعیں ہاتھوں میں تیغوں کو سنبھالے
پتھر ہے برستے ہوے چلتے ہوے بھالے
مظلوم کا اب کوئی نہیں ہے جو بچالے
جس سمت سے نظر اٹھتی ہے خنجر ہے سناں ہے
شبیر ہے تنہا۔۔۔
شبیر کی تنہائی پہ ہنستے ہیں ستمگر
اب کوئی سہارا نہیں قاسم ہے نہ اکبر
سنبھلا نہیں جاتا میرے بچے سے فرس پر
پیاسے کی نگاہوں میں ہر اک سمت دھواں ہے
شبیر ہے تنہا۔۔۔
نرغے میں ستمگاروں کے غش ہے میرا دلبر
خنجر لیےء آتا ہے ادھر شمر ستمگر
رن میں نکل آی ہے ادھر زینب مضطر
خیموں میں نبی زادیوں کی آہ و فغاں ہے
شبیر ہے تنہا۔۔۔
انداز تصور میں جگا پا گیا کس کا
یہ درد میرے لال کو تڑپا گیا کس کا
خنجر کے تلے بھی یہ خیال آ گیا کس کا
مظلوم سوے نہر با حسرت نگراں ہے
شبیر ہے تنہا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.