Ran may abbas
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Shadman Raza
غرور فوج ستمگر کو توڑ سکتا ہوں
رخ فرات نگاہوں سے موڑ سکتا ہوں
علی کا بیٹا ہوں معجز نمائیوں کی قسم
میں آفتاب سے پانی نچوڑ سکتا ہوں
ہر طرف پھیلا ہوا موت کا ڈر ہے
رن میں میں عباس کے آنے کی خبر ہے
پھول کھلنے لگے وفاؤں کے
رنگ پھیکے ہیں بے وفاؤں کے
حوصلے پست ہیں جفاؤں کے
دل دھڑکتے ہیں سورماؤں کے
اسکی حیبت کا اثر ہے
رن میں میں عباس کے۔۔۔
قافلے برچیوں کے بالوں کے
زور گھٹنے لگے رسالوں کے
خوف تھمتے نہیں خیالوں کے
کانپتے ہیں بدن جیالوں کے
سب کی پتھرائی نظر ہے
رن میں میں عباس کے۔۔۔
ساتھ ہے مشک و الم بھی اسکے
سوے دریا ہے قدم بھی اسکے
اور پیاسے ہیں حرم بھی اسکے
دل میں ہے رنج و الم بھی اسکے
شیر وہ تشنہ جگر ہے
رن میں میں عباس کے۔۔۔
بولے عباس کہ بس کفر نہ بک
لا فتی ہم کو پکارے ہیں ملک
ہمزہ جعفر سے جوانوں کی دھمک
بدر کی وادیوں سے آج تلک
میرے شجرے کا اثر ہے
رن میں میں عباس کے۔۔۔
اسکے بازو میں ہے زور حیدر
باپ ہے اس کا فاتح خیبر
یاد ہے سب کو مرحب و انتر
راہ روکے گا کون اب جا کر
یہ بھلا کا جگر ہے
رن میں میں عباس کے۔۔۔
خوف سے کیوں ہوی ہے بیزاری
فوج دریا پہ بلا لے ساری
شمر کی دیکھ لو جفا کاری
وہ بھی دیکھے میری علمداری
پسر سعد کدھر ہے
رن میں میں عباس کے۔۔۔
کس میں کتنا ہنر ہے دکھلا دو
میں اکیلا ہوں اور تم لاکھوں
تم بہادر ہو آج مت بھاگو
روک کر آج مجھکو دکھلا دو
دیکھ لو کون زبر ہے
رن میں میں عباس کے۔۔۔
ہے نسیم ایسا نظارہ اس کا
اسکا دریا ہے کنارہ اس کا
ہاں غضب ایک اشارہ اس کا
شادماں کو ہے سہارا اس کا
وہ جو حیدر کا پسر ہے
رن میں میں عباس کے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.