Nehr pe hazrate
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Sachay Bhai
نہر پہ حضرتِ عباس کے لاشے کے قریب
اک بہن خستہ تن و کشتہ جگرخفتہ نصیب
بے نوا بے کس و بے پردہ ولاچار و غریب
لیکن اُس پر بھی محمد کے گھرانے کی نقیب
زرد چہرے پہ ہے بکھرے ہوئے بالوں کی نقاب
جیسے جُز دان میں لپٹی ہوئی عِصمت کی کتاب
جا بجا جسم پہ ہیں خون کے دھبوں کے نشان
جیسے پیری میں اُٹھائی ہو کوئی لاشِ جوان
ورم آنکھوں میں کمر خم ہے تو خاموش زبان
ضبط کا پھر بھی یہ عالم ہے کہ گریہ نہ فغاں
کون بی بی ہے جو اس طرح سے جاں کھوتی ہے
جس طرح لاش پہ بھائی کہ بہن روتی ہے
محویت کا ہے یہ عالم کہ نظر ہٹتی نہیں
چومتی ہے کبھی شانے تو کبھی جھک کہ جبیں
کبھی تھراتا ہے لاشہ کبھی مقتل کی زمیں
خوف ہے عرشِ الٰہی نہ اُلٹ جائے کہیں
لاشِ عباس پہ یہ دُخترِ حیدر تو نہیں
دیکھیئے دیکھیئے یہ زینبِ مضطر تو نہیں
رو کے کہتی ہے اُٹھو صاحبِ شمشیر اُٹھو
حیدر ِ عصر اُٹھو وقت کے شبیر اُٹھو
آلِ تطہیرکی سوئی ہوئی تقدیر اُٹھو
کاٹ دو عابدِ دلگیر کی زنجیر اُٹھو
آگ ہی آگ ہے بھڑکی ہوئی خیموں میں تمام
چھِن گئی سر سے رداجاتی ہوں میں سوئے شام
شانے کیا تیرے کٹے بندھ گئی بازو میں رسن
سر پہ کیا گُرز لگا ہو گئی بے پردہ بہن
تیری کیا جان گئی مارے گئے شاہِ زمن
فصلِ گُل ایسی لُٹی ہو گئی ہو گیا برباد چمن
چین سے سوئیں گے سب اہلِ ستم راتوں کو
خوفِ اعداء سے نہ سو پائیں گے ہم راتوں کو
وقتِ رُخصت ہے میرے شیر اجازت دے مجھے
قافلہ چلنے کو تیار ہے ہمت دے مجھے
خرمنِ کفرجلا دوں وہ حرارت دے مجھے
یعنی تقریر میں شمشیر کی خصلت دے مجھے
رن میں شمشیر چلانا تو میرا کام نہیں
شام و کوفہ نہ اُلٹ دوں تو میرا نام نہیں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.