Koi ghazi ko bulaye
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Farhan Ali Waris
آگیا بازار شام
خاک پر گرتی ہے کہہ کر یہ علی کی لاڈلی
کوئی غازی کو بلاے راہ میں بازار ہے
یہ میرا پہلا سفر ہے بعد عباس جری
کوئی غازی کو بلاے۔۔۔
خاک پر گرتی ہے۔۔۔
ورثہ دار سیدہ ہوں وارث تطہیر ہوں
کس طرح بازار جاؤں خواہر شبیر ہوں
اک سناں پر بھای روے ایک پر چادر میری
کوئی غازی کو بلاے۔۔۔
خاک پر گرتی ہے۔۔۔
تازیانوں کی اذیت قلب پر سہلونگی میں
کس طرح نا پاک نظروں کے ستم جھیلونگی میں
شرم سے زہرا کی بیٹی جیتے جی مر جاۓ گی
کوئی غازی کو بلاے۔۔۔
خاک پر گرتی ہے۔۔۔
گھر سے جب جاتی تھی زینب محملیں لاتا تھا وہ
بام و دَر بازار سارے بند کرواتا تھا وہ
آج بے چادر ہی زینب شام کی جانب چلی
کوئی غازی کو بلاے۔۔۔
خاک پر گرتی ہے۔۔۔
قافلہ جب بے کسوں کا شام کی جانب چلا
ہاتھ پابند رسن تھے محو غم اور بے ردا
قافلے والوں سے روکر کہتی تھی فضہ یہی
کوئی غازی کو بلاے۔۔۔
خاک پر گرتی ہے۔۔۔
شام میں ان قیدیوں پر کیا ترس کھاۓ نگے لوگ
شام میں جاتے ہی ہم پر آگ برساےنگے لوگ
کانپ اٹھتی ہوں ابھی سے سونچ کر منظر وہی
کوئی غازی کو بلاے۔۔۔
خاک پر گرتی ہے۔۔۔
مجھکو بابا نے بتایا تھا دم رخصت یہی
ایک دن تو شام و کوفہ میں کھلے سر جاے گی
کیا کروں کس کو بلاؤں آگیء ہے وہ گھڑی
کوئی غازی کو بلاے۔۔۔
خاک پر گرتی ہے۔۔۔
بین یہ فرحان و مظہر زینب دلگیر کا
سن کے ہر لاشہ جفا کے دشت میں تھرا گیا
واسطہ لوگوں نبی کا قافلہ روکو ابھی
کوئی غازی کو بلاے۔۔۔
خاک پر گرتی ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.