Neher se aati hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Safdar Abbas
موجِ علقمہ کر رہی ہے بین
لٹ گیء زینب لٹ گےء حسین
بنت شہ لافتی کر رہی ہے مرثیہ
ہاے علمدار
نہر سے آتی ہے یہ صدا
قتل علمدار ہو گیا
پیاسے تھے سب نوحہ گر
تھام لی شہ نے کمر
زینب دلگیر نے کہا
قتل علمدار ہو گیا۔۔۔
کتنا وفادار تھا سب کا مددگار تھا
سایۂ دیوار تھا فوج کا سالار تھا
ہو گےء لاچار ہم کہتے ہیں شاہ امم
رو رہی ہے ساتھ میں وفا
قتل علمدار ہو گیا۔۔۔
دختر شاہ امم کیسے سہے اب یہ غم
خاک نشیں ہے حرم دیکھتے گرتا علم
کرنے لگی مرثیہ پانی نہیں آے گا
ایک نیا مجھکو غم ملا
قتل علمدار ہو گیا۔۔۔
لاشہ جواں بھای کا کیسے اٹھے گا بھلا
بولے شہ کربلا آیےء شیر خدا
میرا سہارا بنو کوئی دلاسہ تو دو
کوئی مددگار نہ رہا
قتل علمدار ہو گیا۔۔۔
ہاے یہ لاچارگی پیاسی سکینہ رہی
ٹوٹی امیدیں میری اور کمر خم ہوی
مشک سکینہ چھدی بہہ گیا پانی سبھی
کوہ علم اس پہ جب گرا
قتل علمدار ہو گیا۔۔۔
سنتے ہو اکبر صدا روتے ہیں شاہ ہدا
فضہ نے رو کر کہا آؤ سنبھالو زرا
چھوٹا وطن گھر لٹا پیاسے رہے غم نہ تھا
اب ہے مصائب کی انتہا
قتل علمدار ہو گیا۔۔۔
ایک علمدار کے جانے سے یہ غم ملے
تشنہ دہن رو دیےء ہاتھ سے کوزے گرے
ہم نے تو نوحے کیےء اہل ستم خوش ہوے
شمر نے جب فوج سے کہا
قتل علمدار ہو گیا۔۔۔
دشت میں شبیر پر ظلم ہوے اس قدر
صفدر و مظہر مگر شکر بھی کرتا رہا
صبر بھی کرتا رہا شکر بھی کرتا رہا
ضبط یہ غم ہو نہیں سکا
قتل علمدار ہو گیا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.