Mere haath nahi hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Raza Abbas Zaidi
جب ہاتھ قلم ہو چکے عباس جری کے
نوحہ حسین کرتے ہوے یہ دشت میں پہنچے
سانسیں ابھی رواں تھی علمدار یہ بولے
محروم زیارت کا سلام اخیر ہے
اک آنکھ میں لہو ہے بھرا اک میں تیر ہے
آقا میرے مولا
میں کیسے اٹھوں آقا میرے ہاتھ نہیں ہیں
پاؤں نہیں چھو سکتا میرے ہاتھ نہیں ہیں
آقا یہ غلامی کا صلہ کیسا دیا ہے
کس پیار سے سر آپنے زانوں پہ رکھا ہے
اٹھ کر سلام کرتا میرے ہاتھ نہیں ہیں
میں کیسے اٹھوں آقا۔۔۔
جو ہاتھ تیرے کام نہ آے میر مولا
بچپن میں ہی کٹ جاتے تو ہوتا بہت اچھا
تم انکو نہیں چھونا میرے ہاتھ نہیں ہیں
میں کیسے اٹھوں آقا۔۔۔
اعضائے بدن کم ہو تو پیکر نہیں ہوتا
معزور پہ گھر والا بھی مضطر نہیں ہوتا
گھر مجھکو نہ لے جانا میرے ہاتھ نہیں ہیں
میں کیسے اٹھوں آقا۔۔۔
دل روتا ہے مرتے ہوے کیا بے ادبی ہے
جن ہاتھوں کے کٹنے سے کمر شہ کی جھکی ہے
سیدھی نہیں کر سکتا میرے ہاتھ نہیں ہیں
میں کیسے اٹھوں آقا۔۔۔
بھاری ہے الم تم نہ اٹھاؤ اسے مولا
ٹوٹی ہے کمر دیکھیےء تنہا نہ اٹھے گا
آقا میں ہوں شرمندہ میرے ہاتھ نہیں ہیں
میں کیسے اٹھوں آقا۔۔۔
گودی میں سکینہ کو اٹھاؤں گا میں کیسے
کس طرح نبھاؤں گا غلامی کے طریقے
یہ کم تو نہیں صدمہ میرے ہاتھ نہیں ہیں
میں کیسے اٹھوں آقا۔۔۔
میں ضامن چادر تھا محافظ تھا حرم کا
اب زندہ بھی رہ جاؤں تو کیا فائدہ آقا
زینب کو بتا دینا میرے ہاتھ نہیں ہیں
میں کیسے اٹھوں آقا۔۔۔
جب زیں سے زمیں کی طرف آنے لگا مولا
نہ کوئی مددگار تھا نہ کوئی سہارا
اسوقت خیال آیا میرے ہاتھ نہیں ہیں
میں کیسے اٹھوں آقا۔۔۔
یہ نوحہء غازی سر مجلس جو رضا ہے
ریحان عزا کہتا ہے یہ معجزہ کیا ہے
یہ ہاتھ ہے غازی کا میرے ہاتھ نہیں ہیں
میں کیسے اٹھوں آقا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.