Maar gaya baba
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Shahid Baltistani
مار گیا بابا تیری زینب کو
عباس کا مرنا مار گیا
بن بازؤں کے وہ غازی کا
گھوڑے سے گرنا مار گیا
جب خیمے میں آے شاہ امم
ہاتھوں میں تھا بس غازی کا علم
عباس نہیں اب آے گا
بھای کا یہ کہنا مار گیا
مار گیا بابا۔۔۔
میں شیر کے جیسے بھای کا
پہچان نہیں پای لاشہ
قاسم کی طرح سے غازی کا
ٹکڑوں میں بکھرنا مار گیا
مار گیا بابا۔۔۔
جب آنکھ سے تیر نکالا تھا
میں دیکھ رہی تھی خیمے سے
میرے غازی کا خوں سرور کے
ہاتھوں سے ٹپکنا مار گیا
مار گیا بابا۔۔۔
یہ شام کے ظالم تو اپنے
گھوڑوں کو پلاتے ہیں پانی
ہاتھوں میں لیےء خالی کوزے
بچوں کا بلکنا مار گیا
مار گیا بابا۔۔۔
جب سے یہ سنا ہے کہ پیاسا
سقاے سکینہ مارا گیا
اب پانی نہیں مل پاے گا
اصغر کا سمجھنا مار گیا
مار گیا بابا۔۔۔
ظالم نے چڑھایا تھا رن میں
جس نیزے پر عباس کا سر
اس نیزے سے بابا میرے
چادر کا اترنا مار گیا
مار گیا بابا۔۔۔
رہوار پہ ہو کر بھی جس کے
کھڑ پاؤں زمیں پر کھینچتے تھے
اس بھائی کا اصغر جیسی
تربت میں سمٹنا مار گیا
مار گیا بابا۔۔۔
مقتل میں بہت ڈھونڈا اس نے
لاشہ نہ ملا دو ہاتھ ملے
ان ہاتھوں سے میری بچی کا
رو رو کے لپٹنا مار گیا
مار گیا بابا۔۔۔
زیشان کہا یہ زینب نے
جب شہ چلی تیرا ضربیں
غازی کو صداییں دے دے کر
بھای کا تڑپنا مار گیا
مار گیا بابا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.