Lashkar may badi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Farhan Ali Waris
شیر علی کی آمد ہے یہ
آتے ہیں دریا پہ علمدار
لشکر میں بڑی دھوم ہے
آتے ہیں دریا پہ علمدار
لشکر میں بڑی دھوم ہے
جب چلا مشک و علم لیکر وہ سقاے حرم
تھا علی جیسا ہی علمدار کا جاہ و ہشم
کہہ اٹھا دریا ہے اس کے پاس حیدر کا الم
چھوڑ دے ساحل کو پہریدار
لشکر میں بڑی دھوم ہے
آتے ہیں دریا پہ۔۔۔
علاماں کا شور اٹھا یک بہ یک میدان میں
یوں لگا کے گر ہی جائے گا فلک میدان میں
موت کا نارا یہ گونجا دور تک میدان مئی
آگےء کیا حیدر کرار
لشکر میں بڑی دھوم ہے
آتے ہیں دریا پہ۔۔۔
تیغ سے لکھے گا یہ جرار قصہ موت کا
اک پل ٹوٹے گا نہ اعدا سے رشتہ موت کا
ہے فرس تیرا سر میداں فرشتہ موت کا
آج تو ہے بر سرِ پیکار
لشکر میں بڑی دھوم ہے
آتے ہیں دریا پہ۔۔۔
ہر دم رہوار کے ہمراہ چلتی ہے قضا
ہے دھمک ایسی لرزتا ہے یہ دشت نینوا
اب تیری تلوار سے پانی پیے گی علقمہ
اے خدای فوج کے سالار
لشکر میں بڑی دھوم ہے
آتے ہیں دریا پہ۔۔۔
ذلف ہے طول شب معراج کی تصویر سی
ہے جبین ناز کوہ طور کی تنویر سی
ہے تیری نظروں میں تیزی حیدری شمشیر سی
آ تیری آمد کی اے جرار
لشکر میں بڑی دھوم ہے
آتے ہیں دریا پہ۔۔۔
سنتے ہی اس شیر کی للکار
لشکر میں بڑی دھوم ہے
آتے ہیں دریا پہ۔۔۔
مصروف تھے جہاد میں عباس باوفا
ناگاہ آی خیمے کی دیوڑھی سے یہ صدا
کیا اب سکینہ پیاسی ہی مر جائے اے چچا
کب تک لڑوگے فوج سے بس ہو چکی وغا
سوکھے ہوئے لبوں پہ میری جان آی ہے
اے نور چشم ساقیِ کوثر دہائی ہے
القصہ پہنچا ساحل دریا پہ با وفا
اعدا سے دریا چھین کے مشکیزہ بھر لیا
مشک و الم سنبھال کے خیمے کا رخ کیا
برسے وہ تیر مشک چھدی اور الم گرا
پانی نہ پہنچا پیاسوں کو اے واے علقمہ
بازو کٹا کے شیر بھی دریا پہ سو گیا
اے مظہر و فرحا قیامت ہی بپا
ہاتوں سے کمر تھام کے آے شہ ہدا
بھائی کو زخمی دیکھ کے نوحہ یہی کیا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.