Khamosh hai alqama
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Ali Zia Rizvi
خموش ہیں علقمہ کی موجیں
فضا میں بھی موت کا سماں ہے
ردائے زینب تیرا محافظ
اکھڑتی سانسوں کے درمیاں ہے
خموش ہیں۔۔۔
ہواؤں کے رخ بدل رہے ہیں
خیام دریا سے ہٹ رہے ہیں
کسی کے تیور بتا رہے ہیں
کہ ٹوٹ پڑے کو آسماں ہے
خموش ہیں۔۔۔
ستم کے پیکاں تو کھینچ لیں گے
حسین چشم جری سے لیکن
خلش کا اک تیر اور بھی ہے
جو قلب عباس میں نہاں ہے
خموش ہیں۔۔۔
سکینہ بی بی کی تشنگی کا
جگر پہ اب تک ہے داغ باقی
وہی وہی مشک بھی ملے گی
علم جری کا جہاں جہاں ہے
خموش ہیں۔۔۔
بہ چشم پر نم بہ وقت رحلت
علی نے جن بازؤں کو چوما
کہیں وہ بازو قلم ہوئے ہیں
کہیں پہ ان میں ریسماں ہے
خموش ہیں۔۔۔
لہو لہو پیکر تمنا
قریب مشکیزہ سکینہ
گرا ہے رہوار سے وہ ایسے
کہیں پہ بازو کہیں نشاں ہیں
خموش ہیں۔۔۔
لگی ہے خیموں میں آگ ہر سو
ردائیں بیووں کی چھن رہی ہیں
اداسیاں پوچھتی ہے شاہد
وہ پاسبان حرم کہاں ہے
خموش ہیں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.