Karbala se shaam
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Aqif Hussain
بعد عاشور جو کیا ہم پہ ستم
کربلا سے کوفہ و شام بے مقنہ و چادر
رسیوں میں ہے جکڑے لے گےء شام
ہاے شام ہاے شام
کربلا سے شام کربلا سے شام
جیا جب تلک وہ بیکس امام
یہی تھی فغاں لبوں پر مدام
نہیں بھولوں گا کبھی راہ شام
لعینوں کا تھا جہاں اژدھام
کھلے سر جہاں حرم تھے تمام
ہاے شام۔۔۔
کربلا سے شام۔۔۔
میری آنکھوں سے رواں اشک تھے
حرم شاہ کے سبھی سر کھلے
زباں پر میری فغاں تھی یہی
چلی قلب پر میرے یہ چھری
لعیں لے رہے تھے زینب کا نام
ہاے شام۔۔۔
کربلا سے شام۔۔۔
میرا گھر لٹا میرا در لٹا
ہوے قتل سب پدر بھی میرا
میرے طفل بھی رہے تشنہ لب
ہوا قید بھی سبھی بے سبب
چھنی چادریں جلے سب قیام
ہاے شام۔۔۔
کربلا سے شام۔۔۔
جفا پر جفا نہیں انتہا
مگر کی نہیں کبھی بد دعا
امامت کا یہ کٹھن تھا سفر
چلی بیٹیاں علی کی جدھر
چلے ساتھ میں ستمگر تمام
ہاے شام۔۔۔
کربلا سے شام۔۔۔
کروں کیا بیاں میں وہ سختیاں
سر راہ تھی سبھی بی بیاں
اسی درد سے پھٹا ہے جگر
علی کے حرم رہے نوحہ گر
ستم کے نہیں کہیں اختتام
ہاے شام۔۔۔
کربلا سے شام۔۔۔
ابھی تک مجھے وہ سب یاد ہے
دیار ستم حرم جب گےء
سروں پر وہاں برسنے لگے
کہیں سنگ اور کہیں قہقہے
بھلایا گیا نہیں وہ مقام
ہاے شام۔۔۔
کربلا سے شام۔۔۔
یہ نوحہ نہیں یہ ہے مرثیہ
حسن کس طرح بیاں ہو بھلا
قلم بھی میرا تڑپنے لگا
ہوی ضبط کی یہاں انتہا
چلا کانٹوں پر وہ میرا امام
ہاے شام۔۔۔
کربلا سے شام۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.