Jaise alamdar gira
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Raza Abbas Zaidi
لاش عباس کے خیمے میں نہیں لاے حسین
لے کے بس مشک و علم محوِ بکا آے حسین
رو کے زینب سے کہا کتنی مصیبت دیکھی
میں نے ہر چاہنے والے کی شہادت دیکھی
زین سے خاک پہ ہر ایک وفادار گرا
ایسے کوی نہ گرا جیسے علمدار گرا
مشک پانی سے بھری اور سوے خیمہ چلا
تیر سے مشک چھدی آس گیء دل ٹوٹا
پشت رہوار پہ صدمے سے کیء بار گرا
ایسے کوی نہ گرا۔۔۔
جس قدر پانی بہا خون بہایا اس نے
ایسے عالم میں بھی یہ ظرف دکھایا اس نے
اس مصیبت میں کہاں صبر کا معیار گرا
ایسے کوی نہ گرا۔۔۔
کیا کہوں تم سے بہن دل پہ چلے تھے خنجر
ایسا لگتا تھا کہ گھوڑے سے گرے ہے اکبر
خاک پہ کٹ کے جو اک بازوے جرار گرا
ایسے کوی نہ گرا۔۔۔
جن سے سادات کو ڈھارس تھی وہ بازو نہ رہے
اتنا رویا ہوں کہ اب آنکھ میں آنسوں نہ رہے
دل میرا ٹوٹ گیا جب میرا سالار گرا
ایسے کوی نہ گرا۔۔۔
گرز جب سر پہ لگا گھوڑے پہ سنبھلا نہ گیا
میرے عباس نے روتے ہوے دے مجھکو صدا
آیےء آقا کہ اب آپ کا غم خوار گرا
ایسے کوی نہ گرا۔۔۔
پہنچا جب بھای کہ لاشے پہ تو دیکھا منظر
اماں زہرا بھی ہے اور فاتح خیبر بھی مگر
خاک پر گھٹنوں کے بل دین کا سردار گرا
ایسے کوی نہ گرا۔۔۔
رکھ کے زانوں پہ سر غازی کہا تھا میں نے
ظلم کی دھوپ میں اب تنہا ہی جلنا ہے مجھے
تو جو گھوڑے سے گرا سایۂ دیوار گرا
ایسے کوی نہ گرا۔۔۔
روکے پھر میرا وفادار پکارا آقا
لاشہ خیمے میں نہ لے جانا خدارا آقا
اپنی نظروں سے ہے پیاسوں کا علمدار گرا
ایسے کوی نہ گرا۔۔۔
مرثیہ بن گیء روداد ستم کاغذ پر
آج بھی روتے ہے یہ کہہ کے رضا اور مظہر
کیسے بن ہاتھوں کے ریتی پہ وفادار گرا
ایسے کوی نہ گرا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.