Jaate ho suye maqtal
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Hadi Ali Khan Muslim
جاتے ہو سوے مقتل عباس خدا حافظ
بولے یہ شہ والا عباس خدا حافظ
اب ہوگیا غربت کا احساس خدا حافظ
ہم ہوگےء جینے سے بے آس خدا حافظ
فریاد کناں سب کی ہے پیاس خدا حافظ
جاتے ہو سوے مقتل۔۔۔
ہر سمت سے آتی ہے رونے کی صدا بھای
سب اہلِ حرم در پر کرتے ہیں بکا بھای
پردے کا نہ چادر کا کچھ ہوش ربا بھای
آتے ہیں انہیں کیا کیا وسواس خدا حافظ
جاتے ہو سوے مقتل۔۔۔
مظلوم ہے ہم کتنے کیا وقت مصیبت ہے
دکھلاے کسے بھائی جو قلب کی حالت ہے
ہر سانس اک آفت ہے ہر لمحہ قیامت ہے
خاموش ہے لب دل میں ہے یاس خدا حافظ
جاتے ہو سوے مقتل۔۔۔
پھرنے لگے آنکھوں میں اب درد کے سب منظر
وہ لٹتے ہوے خیمے وہ جلتا ہوا بستر
وہ نیل طمانچوں کے وہ چھنتے ہوے گوہر
ہے کون غریبوں کے اب پاس خدا حافظ
جاتے ہو سوے مقتل۔۔۔
ہونے سے تیرے رخصت دل ٹوٹ گےء بھیا
اب تو کوئی پیاسا بھی پانی نہیں مانگے گا
مظلوم مصیبت میں اب کس کو صدا دے گا
خاموش رہے گی اب ہر پیاس خدا حافظ
جاتے ہو سوے مقتل۔۔۔
اب شیر جری تم سے لشکر کی بھی زینت تھی
ہر رنج میں آفت میں غم سہنے کی طاقت تھی
تم ساتھ رہے جب تک شبیر کو ہمت تھی
اب جینے کا ارمان ہے نہ آس خدا حافظ
جاتے ہو سوے مقتل۔۔۔
کیا سخت مصیبت ہے عباس تیرا جانا
غم ہوگیا پھر تازہ بابا کی مصیبت کا
اب وقت اسیری کا زینب کو یقیں آیا
سچ ہوتے ہیں بیوؤں کے وسواس خدا حافظ
جاتے ہو سوے مقتل۔۔۔
طاری تھا سکینہ پہ غربت کا عجب عالم
میدان کو جب جاتا ہے شبیر کا جب ضیغم
آتی رہی خیموں سے بس اک صدا پیہم
عباس خدا حافظ عباس خدا حافظ
جاتے ہو سوے مقتل۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.