Kaise qaidi hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Ameer Hasan Aamir
کیسے قیدی ہے قید خانے میں
ہند خود دیکھ کر پریشان ہے
اشک آنکھوں میں لب پہ قرآن ہے
کیسے قیدی ہے قید خانے میں
ملکۂ شام محو حیرت ہے
خاک پر نور کی جماعت ہے
بے ردائی سے دل پشیمان ہے
کیسے قیدی ہے۔۔۔
وقت روتا ہے غم نصیبوں پر
جانے گزری ہے کیا غریبوں پر
لمحہ لمحہ اذیتیں جا ہے
کیسے قیدی ہے۔۔۔
زخم اشکوں سے دھو رہے ہیں سبھی
کربلا کہہ کے رو رہے ہیں سبھی
بس تصور میں ایک بیاباں ہے
کیسے قیدی ہے۔۔۔
ان پہ غم کا پہاڑ ٹوٹا ہے
وقت نے ہاے کیسے لوٹا ہے
چادریں ہے نہ کوئی ساماں ہے
کیسے قیدی ہے۔۔۔
سبکی آنکھوں سے خون ہے جاری
محو گریہ ہے بی بیاں ساری
کیا ہوا سب کی گود ویراں ہے
کیسے قیدی ہے۔۔۔
کیا نہیں کوئی غم کے ماروں کا
حال مت پُوچھو بے سہاروں کا
چاک بچوں کا بھی گریباں ہے
کیسے قیدی ہے۔۔۔
ایسے غم کی ردا ہے اوڑھے ہوے
سب ہے جینے کی آس چھوڑے ہوے
کوئی خواہش نہ کوئی ارماں ہے
کیسے قیدی ہے۔۔۔
کیفیت ہے عجیب آہوں میں
سبکی بھیگی ہوی نگاہوں میں
اک اجڑا ہوا گلستاں ہے
کیسے قیدی ہے۔۔۔
دیکھ کر بیکسی کا یہ منظر
ہند روتی ہے عامر و اختر
سارا زندان مرثیہ خواں ہے
کیسے قیدی ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.