Kahan ho ay mere
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Ahsan Hussain
زینب کو جو بازار میں ظالم نے پھرایا
اس وقت لب پہ تھا یہ کہاں ہو اے میرے غازی
اک اژدھام کا ہے بدکار فاسقوں کا
بازار شرابی سے گزر ثانیء زہرا کا
دیتی تھی صدا رو کر کہاں ہو اے میرے غازی
زینب کو جو بازار میں۔۔۔
پر خوار راستے ہیں اور ننگے پاؤں سادات
محشر سے کم نہیں ہے یہ سختیاں یہ حالات
پیروں سے خوں ہے جاری کہاں ہو اے میرے غازی
زینب کو جو بازار میں۔۔۔
اطفال حسینی پہ ہے ظلم و ستم جاری
اور نوک سناں پر سر قرآں کا ہوا طاری
غم ناک اس فضا میں کہاں ہو اے میرے غازی
زینب کو جو بازار میں۔۔۔
نو بار ردا سر سے یوں چھینا ہے ظالموں نے
ہاتھوں کو پشت گردن باندھا ہے ظالموں نے
اس درجہ مصیبت میں کہاں ہو اے میرے غازی
زینب کو جو بازار میں۔۔۔
بازار سج گےء اور خوشیاں منا رہے ہیں
باغی کی بہن کہہ کر ظالم ستا رہے ہیں
ہنستے ہیں لعیں ہم پر کہاں ہو اے میرے غازی
زینب کو جو بازار میں۔۔۔
رنج و الم میں ڈوبا وہ عابد مضطر ہے
شرم و حیاء کا پیکر چلتا جھکائے سر ہے
دینے کو اب دلاسے کہاں ہو اے میرے غازی
زینب کو جو بازار میں۔۔۔
اعظم میں لکھوں کیسے بازار کا وہ منظر
سر ننگے بی بیوں کے چلتا تھا دل پہ خنجر
احسان صدا تھی لب پر کہاں ہو اے میرے غازی
زینب کو جو بازار میں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.