Jinko tu samjhi hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Tableegh e Imamia
جن کو توں سمجھی ہے اے ہند یہاں وہ تو نہیں
ہم تو آوارہ وطن قیدی ہیں اور خاک نشیں
وہ تو ہیں نورِ محمد کی ضیائ عرش مکیں
حال یہ دیکھ کہ بھی آتا نہیں تُجھ کو یقیں
توں نے کیا دیکھ کہ کیا سوچ کہ یہ بات کہی
کلمہ گو قید کریں گے بھلا اولادِ نبی
جن کو توں سمجھی ہے ۔۔۔
بولی وہ کون ہو تم لوگ مجھے یہ تو بتائو
اپنا افسانہ ِ غم مجھ کو مسافر تو سُنائو
روکو ان آنسوئوں کو اپنے خُدارا نہ بہائو
سر کو اونچا کرو اے بیبیوصورت تو دیکھائو
بولی اک بی بی بڑا رنج ہے ماں جائی کو
تیرے شوہر نے کیا قتل میرے بھائی کو
جن کو توں سمجھی ہے ۔۔۔
کتنا پُر درد تھا یہ زینبِ مُضطر کا بیاں
سُنتے ہی ہند کی آنکھوں سے ہوئے اشک رواں
رو کے کہنے لگی با خاطرِ سُلطانِ زماں
میں چھُڑائوں گی تمہیں قید سے با عزت و شاں
نام لے کے نہ اب کیجیئو یوں شور و شین
میرے آقا میرے مولا کا بھی ہے نام حُسین
جن کو توں سمجھی ہے ۔۔۔
شب کو اک خواب وہ دیکھا ہے کہ اللہ کی پناہ
یعنی ہے تین شب و روز سے پیاسا میرا شاہ
بول کہ اپنی کنیزوں سے بصد اشک و آہ
نام اب لیتی ہوں سیدانیوں کے حقِ دوا
پاس بے حد ہے مجھے آلِ محمد کا جناب
جائو لے آئو وضو کرنے کو میرے لیئے آب
جن کو توں سمجھی ہے ۔۔۔
لب پہ عباس کبھی اکبر و اصغر تھا انیس
قاسم و عون و محمد کبھی جعفر تھا انیس
ذکرِ انصار کبھی یا شاہِ صفدر تھا انیس
تین دن شام اعزاخانہ ِ سرور تھا انیس
مجلسِ سبطِ پیعمبر ہوئی پہلی برپا
ذاکرہ جس کی تھی خود بنتِ علی و زہرا
جن کو توں سمجھی ہے ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.