Hai apni sakina ka
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Raza Abbas Zaidi
سر غازی کا جب شاہ نے سینے سے لگایا
شہ رگ سے صدا آنے لگی ہائے سکینہ
فرماتے تھے عباس میں شرمندہ ہوں آقا
پانی میں سکینہ کے لیے لا نہیں پایا
ہے اپنی سکینہ کا عباس کو غم مولا
پیاسی رہی شہزادئ اور مرتے ہیں ہم مولا
تشریف جو لائیں ہیں تعظیم کو اٹھ جاتا
سر اپنا جھکا کر میں آداب بجا لاتا
اٹھنے سے بھی قاصر ہوں بازو ہیں قلم مولا
پیاسی رہی شہزادئ۔۔۔
ہے اپنی سکینہ کا۔۔۔
خاتونِ جناں نے یوں گرنے سے بچایا ہے
رہوار سے بی بی نے خود مجھ کو اتارا ہے
ہیں خاک پہ بی بی کے یہ نقشِ قدم مولا
پیاسی رہی شہزادئ۔۔۔
ہے اپنی سکینہ کا۔۔۔
آتی ہے صدا کوئی بڑھتی ہے پریشانی
جیسے کہ کوئی بچی کہتی ہو چچا پانی
ہے موت سے بڑھ کر یہ زہرا کی قسم مولا
پیاسی رہی شہزادئ۔۔۔
ہے اپنی سکینہ کا۔۔۔
چھنتےہوئے بی بی کے دکھتے ہیں گہر مجھکو
روتی ہوئی آتی ہے معصومہ نظر مجھکو
کس طرح سے جھیلے گی وہ رنج والم مولا
پیاسی رہی شہزادئ۔۔۔
ہے اپنی سکینہ کا۔۔۔
مقتل میں پڑا رہنے دیجیے گا مرا لاشہ
عباس کی غیرت کو برداشت نہیں گا
میت پہ مری روئیں اب اہلِ حرم مولا
پیاسی رہی شہزادئ۔۔۔
ہے اپنی سکینہ کا۔۔۔
جاتے ہوئے حسرت ہے یہ آپ کے خادم کو
بس ثانیءِ زہرا کے خیمے کی زیارت ہو
رُخ پھیر دیں اُس جانب اب وقت ہے کم مولا
پیاسی رہی شہزادئ۔۔۔
ہے اپنی سکینہ کا۔۔۔
ریتی پہ تیرا خدام پیروں کو رگڑتا ہے
ہیں زخم لگے اتنے خوں جسم سے بہتا ہے
رک رک کے نکلتا ہے اب سینے سے دم مولا
پیاسی رہی شہزادئ۔۔۔
ہے اپنی سکینہ کا۔۔۔
میں آپ کے چہرے کو دیکھوں تو بھلا کیسے
اک تیر سے زخمی ہے اک آنکھ ہے تر خوں سے
یہ تیر ھٹا دیں تو ہو جائے کرم مولا
پیاسی رہی شہزادئ۔۔۔
ہے اپنی سکینہ کا۔۔۔
عباس کے خیمے میں مولا نے علم رکھ کے
کاٹی ہیں طنابیں یوں اکبر کہ ابھی جیسے
دفناتے ہیں غازی کی حسرت میں علم مولا
پیاسی رہی شہزادئ۔۔۔
ہے اپنی سکینہ کا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.