Jab suni hind ke
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Raza Abbas Zaidi
تعظیم کرو آتی ہے شہزادیئے شام
اے اسیرانِ ستم اُٹھو کرو آئو سلام
ہند آتی ہے ہر اک دُکھ کی دوا کر دے گی
رحم دل بی بی ہے چاہے تو رہاکر دے گی
جب سُنی ہند کے آنے کی خبر زینب نے
رکھ دیا خاک پہ روتے ہوئے سر زینب نے
بولی سجاد سے جلدی کوئی چادر لا دے
میرے حصے کی جہاں موت ہے جا کر لا دے
کوئی شے چھُپنے کی مجھ کو میرے دلبر لا دے
کہہ کے یہ تھام لیا اپنا جگر زینب نے
جب سُنی ہند کے ۔۔۔
سامنا ہند کا کس طرح کروں گی بیٹا
آنکھ بھر کر مجھے جس نے نہ کبھی تھا دیکھا
اب وہ دیکھے گی یہاں ہائے کھُلا سر میرا
یہ وہ ہے جس کو دیئے لال و گوہر زینب نے
جب سُنی ہند کے ۔۔۔
ہند آئی تو کسی نے کہا تعظیم کرو
قیدیو جائے ادب ہے چلو تسلیم کرو
رحم دل بی بی ہے گھبرائو نہ تکریم کرو
سُن کے یہ اشکوں سے دامن کیا تر زینب نے
جب سُنی ہند کے ۔۔۔
ہند نے نام جو پوچھا تو حیا آنے لگی
بنتِ زہرا تھی تڑپنے لگی شرمانے لگی
یاد عباس کی بی بی کو بہت آنے لگی
کی سرِ شاہ پہ اُس وقت نظر زینب نے
جب سُنی ہند کے ۔۔۔
ہند پہچان گئی جسم میں لرزا آیا
پھینک کر اپنی ردا روئی بہت غش آیا
سر رکھا قدموں پے روتے ہوئے یہ فرمایا
کیسی حالت میں کیا یاں کا سفر زینب نے
جب سُنی ہند کے ۔۔۔
کیسے ریحان بیاں ہو گا قید کا منظر
ہند کے سر پہ جو زینب نے اُڑھائی چادر
اور اُس وقت بھی بی بی کا برہنہ رہا سر
غم کا ماحول ملا دیکھا جدھر زینب نے
جب سُنی ہند کے ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.