Dunya usay kehti hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Others
دنیا اسے کہتی ہےعلمدار علمدار
پیاسوں کا علمدار ہے پیاسوں کا علمدار
شبیر کے لشکر کا علمدار علمدار
ایماں کے لئے مرنے کو تیار علمدار
نصرت کے لئے بر سرِ پیکار علمدار
مشکیزے میں پانی کا طلبگار علمدار
اور ہاتھوں کے کٹ جانے سے ناچار علمدار
دنیا اسے کہتی ہے۔۔۔
وحدت کی تجلی سے نظر جوڑنے والا
دنیا کے ہر ایک عیش سے منہ موڑنے والا
خیبر کی طرح فوج کی حد توڑنے والا
ہے موت کا میداں میں خریدار علمدار
دنیا اسے کہتی ہے۔۔۔
یہ خون کے بوچھار میں امت کا سفینہ
تڑپتی ہے میدان میں جب یاد سکینہ
نیزے پہ یہ پڑتا ہے تانے ہوے سینہ
سن لیتا ہے تلواروں کی جھنکار علمدار
دنیا اسے کہتی ہے۔۔۔
تلوار سی باطل کی گراں کھولنے والا
حق بات حقیقت کے لئے بولنے والا
نظروں میں حیات ابدی تولنے والا
ہر لہجہ شہادت کا طلبگار علمدار
دنیا اسے کہتی ہے۔۔۔
ملنے کا نہ امید ہے جینے کا نہ یارا
کیا جانیےء کس طرح سے ڈھونڈا ہے سہارا
سنتے ہیں سکینہ نے کیء بار پکارا
ممکن ہوا قسمت سے نہ دیدار علمدار
دنیا اسے کہتی ہے۔۔۔
مشکیزے سے ہر بار وہ گرتا ہوا پانی
رفتار سے ٹکراتی ہے نفسوں کی روانی
چہرے سے نکھرتی ہوی بابا کی جوانی
عباس ہے یا حیدر کرّار علمدار
دنیا اسے کہتی ہے۔۔۔
تلوار سنبھالی کبھی مشکیزہ اٹھایا
دریا پہ بھی پانی کے لئے خوں کو بہایا
سایل وہ کیا چیز یہ کونین پہ چھایا
چلتا ہی رہا ازم کی رفتار علمدار
دنیا اسے کہتی ہے۔۔۔
وہ سوکھی زباں ابھرے ہوے پیاس کے چھالے
بہتا ہے لہو جسم کے ہر زخم ہے آلے
جب ہاتھ نہیں ہیں تو الم کیسے سنبھالے
بھای کو صدا دیتا ہے ہر بار علمدار
دنیا اسے کہتی ہے۔۔۔
میدان میں جم جانا بہادر کا یہ خوں ہے
خوں چہرے پہ مل لینا شہیدوں کا وضو ہے
ہے گرز گرا سر پہ تو آنکھوں میں لہو ہے
ہو جاتا ہے یوں بھی کبھی ناچار علمدار
دنیا اسے کہتی ہے۔۔۔
اسلام کے جاڑے ہیں تو ایمان کی راہیں
ہے رعب و جلال اتنا کہ تھم جاتی ہے آہیں
جھک جاتی ہے اے فضل ملایک کی نگاہیں
نظروں سے بہت اونچا ہے دربار علمدار
دنیا اسے کہتی ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.