Dashte ghurbat
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Hadi Ali Khan Muslim
دشتِ غربت میں سکینہ میں اکیلا ہوگیا
لاش عباس علی سے اٹھ کے آے ہیں حسین
ہو چکی دنیا اندھیری کھو چکا ہے دل کا چین
تھام کر ٹوٹی کمر کرتے ہیں بیٹی سے یہ بین
نہر پر شانے کٹا کے سوگیا تیرے چچا
دشتِ غربت میں سکینہ۔۔۔
خون بہہ جانے کا کوئی غم نہ تھا عباس کو
اپنی نظروں میں بساے تھا وہ تیری پیاس کو
چوٹ پہنچی ہاے میرے بھائی کے احساس کو
بہہ گیا پانی چھدا جس وقت مشکیزہ تیرا
دشتِ غربت میں سکینہ۔۔۔
میں نے دیکھا ہے در خیمہ سے اسکا حال زار
جب ہوا بے دست میرا بھای میرا غم گزر
ہر طرف سے ہر کوئی مظلوم پر تھا وار
کس قدر زخمی ہوا ہے کیا کہوں سقہ تیرا
دشتِ غربت میں سکینہ۔۔۔
حال میرے بھائی کا بیٹی کروں کیسے بیاں
جب میں پہنچا وہ حیات و موت کے تھا درمیاں
سر سے پا تک گرز کے تیغوں کے بھالوں کے نشاں
آنکھ میں اک تیر تھا اک آنکھ میں تھا خوں بھرا
دشتِ غربت میں سکینہ۔۔۔
کہتا تھا لاشہ میرالللہ خیموں میں نہ جاے
مجھ سے اب سیدانیوں کا سامنا ہونے نہ پاے
یہ گزارش ہے سکینہ میرے لاشے پر نہ آے
مرتے مرتے اس کا سقہ اس سے شرمندہ رہا
دشتِ غربت میں سکینہ۔۔۔
ہر اذیت سہہ گےء سب باوفا ساتھی میرے
جو بھی گھوڑے سے گرا اسکے سلامت ہاتھ تھے
یہ مصیبت ہاں مگر حصے میں تھی عباس کے
کیا بتاؤں کیسے گھوڑے سے زمیں پر وہ گرا
دشتِ غربت میں سکینہ۔۔۔
کربلا میں اس طرح عاشور کی مجلس ہوی
ذکر تھا عباس کا ذاکر حسین ابنِ علی
بی بیوں کی آہ و زاری سے زمیں ہلنے لگی
کہتے تھے احسن یہی رو رو کے شاہ کربلا
دشتِ غربت میں سکینہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.